تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 202

نہ ہو کہ اگر میں اس طرح کرتا تو یہ نتیجہ نکلتا۔بچوں کو دیکھ لو جب وہ امتحان میں فیل ہو جائیں تو وہ سوچنے لگتے ہیں کہ اگر ہم کھیل کود میں اپنے دن ضائع نہ کرتے تو کبھی فیل نہ ہوتے اور اگر پاس ہو جائیں تو پھر وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم فلاں فلاں کھیل میں اپنا وقت ضائع نہ کرتے تو موجودہ نمبروں سے بہت زیادہ نمبر حاصل کرتے۔غرض آخری نتیجہ کے وقت انسان ضرور اپنے گزشتہ اعمال پر نظر دوڑاتا اور اُن کو یاد کر کے سوچتا ہے۔اگر اُسے ناکامی ہو تو وہ حسرت کرتا ہے کہ میں نے کیوں ایسے کام کئے جن سے مجھے ناکامی ہوئی۔اور اگر اُسے کامیابی ہو تو پھر وہ یہ سوچنے لگ جاتا ہے کہ اگر میں اس سے بھی زیادہ کام کرتا تو نتیجہ اور بھی شاندار نکلتا اللہ تعالیٰ اسی انسانی فطرت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اس جگہ فرماتا ہے کہ يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى اسلام اور کفر کا آخری فیصلہ جب فتح مکہ کے دن ہو گا تو اُس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا اور جیسا جیسا کسی نے اسلام سے سلوک کیا ہو گا وہ اُس کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔فتح مکہ کے بعد کفار و مشرکین کے دل میں کس طرح بار بار یہ خیال آتا ہو گا کہ اگر ہم رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مخالفت نہ کرتے تو کیا اچھا ہوتا۔جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں داخلہ کے وقت یہ اعلان کیا ہو گا کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کر کے اندر بیٹھ رہے گا اُسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔اُس وقت وہ لوگ جو مسلمانوں کو بڑی بڑی سخت اذیّتیں پہنچایا کرتے تھے کس طرح اندر گھروںمیں بیٹھے ہوئے سوچتے ہوں گے کہ اگر ہم اسلام کی مخالفت نہ کرتے تو آج ہم بھی گھوڑے دوڑاتے ہوئے مکہ کی گلیوں میں پھر رہے ہوتے اور مکانوں کے اندر چھپ کر نہ بیٹھے ہوتے۔حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے ایام میں ایک دفعہ حج کرنے کے لئے مکہ میں آئے تو مکّہ کے بڑے بڑے رئوساء آپ کے ملنے کے لئے گئے۔خاندانی لحاظ سے حضرت عمرؓ حضرت ابوبکرؓ سے بڑے تھے اور مکہ میں اُن کا خاندان بہت مشہور تھا۔جب آپ حج کے لئے آئے تو مکہ کے رئوسا نے سمجھا کہ اب چونکہ ایسا شخص خلیفہ ہے جو ہمارے خاندانوں کی عظمت سے خوب واقف ہے اس لئے اب ہمارا خاص طور پر اعزاز کیا جائے گا اور ہماری خاندانی روایات کو قائم رکھا جائے گا۔چنانچہ وہ حضرت عمرؓ سے ملنے کیلئے آئے اور آپ نے اُن سے باتیں شروع کر دیں۔وہ ابھی باتیں ہی کر رہے تھے کہ ایک حبشی اور غلام مسلمان جس کو قریش کے بڑے بڑے سردار مکہ کی گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے آپہنچا اور اُس نے حضرت عمرؓ کو السلام علیکم کہا۔حضرت عمرؓ رئوسا مکہ سے کہنے لگے ان کو ذرا جگہ دے دو۔اور خود پیچھے ہٹ جائو چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گئے اور حضرت عمرؓ نے اُن سے باتیں شروع کر دیں۔اتنے