تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 199 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 199

جاتا ہے۔اور کتاب مصباح میں لکھا ہے اَلنَّعَمُ: اَلْمَالُ الرَّاعِیْ وَھُوْ جَمْعٌ لَا وَاحِدَلَہٗ مِنْ لَفْظِہٖ وَاَکْثَرُ مَا یَقَعُ عَلَی الْاِبِلِ کہ نَعَم تمام چرنے والے جانوروں کو کہتے ہیں ہاں کثرت سے اس لفظ کا استعمال اونٹوں کے لئے ہی کرتے ہیں اور لفظ نَعَم جمع ہے اس کے مادہ (ن ع م) سے اس کا کوئی مفرد نہیں (جیسے عربی میں نِسْوَۃٌ کا لفظ ہے جس کے معنے عورتوں کے ہیں اس کا مفرد اس کے مادہ سے نہیں آتا بلکہ مفرد کے لئے اِمْرَأَۃٌ کا لفظ استعمال ہوتا ہے) بعض آئمۂ لغت کا قول ہے کہ نَعَمْ کا لفظ اونٹوں کے لئے خاص ہے لیکن اَنْعَام میں اونٹ۔بھیڑ۔گائے سبھی شامل ہیں پھر لکھتے ہیں کہ اَنْعَام کا لفظ بھیڑ۔اونٹ اور گائے کے مجموعہ پر بولا جاتا ہے لیکن اگر اونٹوں کو اُن سے علیحدہ کیا جائے تو اونٹوں کے لئے نَعَم کا لفظ بولا جائے گا مگر صرف گائے۔بھیڑ ،بکریوں کو نَعَم نہیں کہیں گے (اقرب) تفسیر۔جسمانی اور روحانی ہر دو نظاموں میں چوپاؤں کی ضرورت کا احساس۔نظامِ عالم کو پیش کر کے اس جگہ جسمانی طور پر یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ یہ نظام نہ صرف تمہارے فائدہ کے لئے ہے بلکہ تمہارے چوپائوں کا بھی اس نظام میں خیال رکھا گیا ہے اور اُن کی رہائش اور حیات کے لئے جن چیزوں کی ضرورت تھی اُن کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہیا کیا گیا ہے۔اس جسمانی نظام کو پیش کرتے ہوئے اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہمارا یہ طریق صرف اس ظاہری نظام میں ہی نہیں بلکہ روحانی عالم میں بھی جانوروں کا خیال رکھا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم میں اس مضمون پر خاص طور پر زور دیا گیا ہے اور مومنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ایک کو اُس کا حق ادا کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَفِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ (الذاریات :۲۰) کہ مومن کے اموال میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے ان کا بھی جو مانگ سکتے ہیں اور ان کا بھی جو مانگ نہیں سکتے۔جیسے کم گو اور گری ہوئی اقوام یا جانور وغیر ہ ہیں اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بھی اس امر کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں ایک عورت کو محض اس لئے جنت میں داخل کیا گیا کہ اُس نے پیاسے کُتے کو پانی پلایا تھا (مسلم کتاب السلام باب فضل ساقی البھائم المحترمة واطعامھا) اسی طرح آپ نے فرمایا ہے جانوروں پر رحم کیا کرو کیونکہ خدا نے ان کو تمہارے سپرد کیا ہے تو روحانی تعلیم صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی امن پیدا کرتی ہے۔جسمانی نظام میں بھی خدا تعالیٰ کے نظام کے ماتحت ہی جانور پلتے ہیں۔اس مادی عالم میں غلّہ انسانوں کے کام آتا ہے اور بھوسہ جانوروں کے کام آتا ہے مجھے ہمیشہ خیال آتا ہےکہ اگر غلّہ ہی غلّہ پیدا ہوتا تو لوگ جانوروں کو بھوکا مار دیتے مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھو کہ اُس نے آدمی کا پیٹ چھوٹا بنایا اور جانور کابڑا بنایا۔دوسری طرف اسی مناسبت سے غلّہ تھوڑا ہوتا ہے اور بھوسہ بہت زیادہ ہوتاہے اگر غلّہ ہی غلّہ ہوتا تو سب کچھ انسان کھا