تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 198

نے جب تیز گردش کی تو اُس کے ٹکڑے اڑ کر اِدھر اُدھر جا پڑے اور وہ سرد ہو کر مختلف کرّوں کی شکل اختیار کر گئے۔بہرحال نظام شمسی کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کئے جن سے یہ زمین رہائش کے قابل ہوئی۔اگر نظام شمسی نہ ہوتا تو زمین کا قیام بھی نہ ہوتا۔اِسی طرح نظامِ جسمانی بھی نظام شمسی روحانی کےقیام بعد قابلِ قدر ہوتا ہے۔جس طرح نظامِ ارضی میں نظامِ شمسی کا وجود نہایت ضروری ہے اگر وہ نظام نہ ہوتا تو نہ پہاڑ بنتے نہ گڑھے پیدا ہوتے نہ سمندر تیار ہوتے۔نہ انسان اس میں رہائش اختیار کر سکتے۔اسی طرح جب تک نظامِ شمسی روحانی کےقائم نہ ہو جو انسان کے اندرونی آتش فشاں مادوں کو نکال کر باہر پھینک دے اور اس کی طبیعت میں یکسانیت پیدا کر دے اس وقت تک نظامِ جسمانی بھی اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔نظامِ شمسی روحانی ہی ہے جو ایک طرف غصّہ کو دباتا ہے دوسری طرف انتہائی نرمی اور بے حیائی سے بچاتا ہے اور اس طرح اعتدال کی تعلیم دے کر اُسے بنی نوع انسان کے لئے مفید اور کارآمد وجود بناتا ہے گویا جس طرح زمین کے لاوا کو اللہ تعالیٰ پہاڑوں کی صورت میں زمین سے باہر نکال دیتا ہے اسی طرح مذہب ایک طرف انسان کے غضب اور جوش اور انتقام کی روح کو بعض پابندیوں کے نیچے لا کر ٹھنڈا کرتا ہے اور دوسری طرف وہ یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ آگ بالکل ختم ہو جائے اور گرمی کا مادہ بالکل نہ رہے۔چنانچہ وہ ایسی تعلیم بھی دیتا ہے جو بے حیائیوں سے بچانے والی بے غیرتیوں سے محفوظ رکھنے والی اور سستی اور کاہلی سے نفرت دلانے والی ہوتی ہے جب ہر قسم کے خراب مادے دور ہو جاتے ہیں اور جب ہر قسم کے نیک مادے فطرتِ انسانی میں پیدا ہو جاتے ہیں تب یہ نظامِ جسمانی قابلِ قدر ہوتا ہے اگر اس نظام پر ایک روحانی آسمان نہ ہو اور اگر یہ نظام روحانی ایک طرف انسان کے حیوانی جذبات کو نہ دبائے اور دوسری طرف سستی اور غفلت کے جذبات کو دُور نہ کرے تو یہ نظام اپنے اندر کسی قسم کی جاذبیت اور کشش نہیں رکھ سکتا۔یہ آسمانی نظام ہی ہے جس کے بعد روحانی غذا اور شرب کے سامان پیدا ہوتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح زمین کو قائم رکھنے والے وجود پیدا ہو تے ہیں۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ۰۰۳۴ (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کے لئے (اس نے کیا ہے)۔حَلّ لُغَات۔اَنْعَامُ: اَنْعَامٌ نَعَمٌ کی جمع ہے اور اَلنَّعَمُ کے معنے ہیں اَلْاِبِلُ وَالشَّاءُ وَقِیْلَ خَاصٌ بِالْاِبِلِ یعنی نَعَم کا لفظ اونٹ اور بکریوں پر بولا جاتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ لفظ صرف اونٹوں پر بولا