تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 182
اور جب اُس نے اپنی قدرت اور طاقت اور جلال کا ثبوت اِسی دنیا میں اُس خلق کے مشابہ ایک اَور خلق سے دے دیا ہے تو ہمیں ایمان لانا پڑے گا کہ اتنی بڑی طاقت رکھنے والے خدا نے جب کہا ہے کہ میں اگلے جہان میں بھی ایک خلق کروں تو ضرور اُس نے سچ کہا ہے اتنی بڑی طاقت اور قوت رکھنے کے بعد اُسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔قیامت کے ثبوت کے لئے تیسری دلیل یعنی خدا تعالیٰ کا علم تام تیسری چیز علم تام ہے۔اگر ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کو علم تام حاصل ہے تب بھی مسئلہ بالکل حل ہو جائے گا کیونکہ جو ہستی کسی چیز کے متعلق علم تام رکھتی ہو وہ اسے ہر وقت بنا سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی کتب میں تحریر فرمایا ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں خدا تعالیٰ نے دنیا کس طرح بنائی ہے؟آپ فرماتے ہیں اگر تمہیں دنیا کی پیدائش کے متعلق علم تام حاصل ہو جائے تو پھر تم میں اور خدا میں فرق کیارہ جائے۔پھر تم بھی آسمان اورزمین اور چاند اور سورج اور ستارے بنانے لگ جاؤ۔جس شخص کو پتہ ہو کہ میز اس طرح بنتا ہے کرسی اس طرح تیار ہوتی ہے۔ہتھوڑا اس طرح چلایا جاتا ہے۔تیشے کا اس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔وہ بہرحال میز اور کرسی کو بنا لے گا اور اس کے لئے یہ کام کرنا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔(سرمہ چشمہ آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۲۹،۲۶۳،۲۶۹)پس اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کو مخلوق کے متعلق علم تام حاصل ہے تو اس کے بعد یہ کہنا کہ وہ دوبارہ لوگوں کو زندہ نہیں کر سکتا یا دوبارہ ان کو پیدا نہیں کر سکتا ایک پاگل پن کی بات ہوگی۔یہ تین چیزیں ہیں جو قیامت کے ثبوت کے لئے ضروری ہیں اور یہ تینوں چیز یں مل کر قیامت کا ثبوت بنتی ہیں۔یعنی یا تو یہ ثابت ہو جائے کہ دنیا میں جس قدر مخلوق ہے سب خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے تو پھر اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکے گا کہ جو خدا اس جہان میں پیدا کر سکتا ہے وہ اگلے جہان میں بھی پیدا کر سکتا ہے۔اور یا پھر یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اسی قسم کا مشابہ احیاء اس دنیا میں بھی کیا کرتا ہے۔جب یہ ثابت ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ ایک قسم کا احیاء اس دنیا میں بھی کیا کرتا ہے تو اگلے جہان کے متعلق بھی یہ تسلیم کرنا بڑے گا کہ وہاں اللہ تعالیٰ احیاء کر سکتا ہے اور پھر تیسری بات یہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کو مخلوق کے متعلق علم تام حاصل ہے تو اس کے بعد بھی قیامت پر ایمان لانا پڑے گا۔کیونکہ جسے مخلوق کا علم تام حاصل ہو۔جو اس کی جزئیات تک سے واقف ہو۔جو اس کی باریکیوں سے آگاہ ہو وہ یقیناً دوبارہ بھی مخلوق کوپیدا کر سکتا ہے۔یہ تین چیزیں ہیں جو مل کر قیامت کاثبوت بنتی ہیں۔اور یہی تینوں چیزیں قرآن کریم میں ہمیشہ اکٹھی پیش کی جاتی ہیں تا کہ قیامت کا انکار نہ ہو سکے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے فلاں بات کہی تھی اور وہ بات پوری ہو گئی اس لئے قیامت بھی آجائے گی۔اگر صرف اتنی بات کہی جائے تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دلیل نا کافی ہو گی۔یا