تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 183
اگر یہ کہا جائے کہ چونکہ پیشگوئی کے مطابق فلاں مقدمیں فتح ہو گئی یا فلاں شخص کےگھر لڑکا پیدا ہو گیا اس لئے یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ قیامت بھی ہو گی تو تسلیم کریں گے کہ یہ قیامت کی کوئی دلیل نہیں اور یقیناً زید کے گھر لڑکا ہونے یا کسی مقد مہ میں کامیابی حاصل ہو جانے کا منطقی طور پر یہ نتیجہ نہیں نکل سکتا ہے کہ قیامت بھی آنیوالی ہے کیونکہ یہ باتیں آپس میں لازم ملزوم نہیں ہیں اور نہ اِن کا قیامت سے کوئی براہ راست تعلق ہے۔ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ تو بالکل اور ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اور جو خدا ایک دفعہ پیدا کر سکتا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس احیاء کے بالکل مشا بہ اس دنیا میں ایک روحانی احیاء بھی کیا کرتا ہے پس جو خدا ایک مشابہ خلق کر سکتا ہے وہ اگلے جہان میں بھی نئی خلق پر قدرت رکھتا ہے۔پھر ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو علمِ تام حاصل ہے اور مخلوق کے تمام اسرار کو وہ جانتا ہے۔اور جب یہ کیفیت ہے تو مخلوق کاپیدا کرنا اس کے لئے کون سا مشکل کام ہے۔قرآن کریم نے قیامت کے ثبوت میں یہی طریق اختیار کیا ہے۔بے شک دوسری کتابوں پر یہ اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ وہ قیامت کا ثبوت پیش نہیں کرتیں مگر قرآن کریم پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا۔قرآن کریم جہاں بھی قیامت کا ذکر کرتا ہے وہاں پہلی خلق کو اس کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے چنانچہ سورۂ یٓس میں ہی جب اس سوال کا ذکر کیا گیا کہ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ تو اس کا جواب یہ دیاگیا کہ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيْمُ۔ا۟لَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ۔اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى ١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ(یٰس :۷۹ تا ۸۲)یہاں بھی پہلی خلق اور علمِ تام سے قیامت کانتیجہ نکالا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جو خدا ایک دفعہ پیدا کر سکتا ہے اور کل علم مخلوق کا رکھتا ہے کیا اُس کی طاقت اور قدرت میں یہ بات نہیں کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کر دے۔گویا قیامت کی ایک دلیل اللہ تعالیٰ یہ دیتا ہے کہ وہ کہتا ہے تمہاری آنکھوں کے سامنے مخلوق موجود ہے تم بتائو یہ کس نے پیدا کی ہے۔جب خدا نے اس تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے توتم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ وہ دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا۔قیامت کی دوسری دلیل کے طور پر اللہ تعالیٰ اُس نشاۃ روحانیہ کو پیش کرتا ہے جو انبیاء کے ذریعہ اس دنیا میں ہوتی ہے اور بتاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مخالف بلکہ ناممکن قرار دینے والے حالات میں مُردہ روحوں کو اس دُنیا میں زندہ کر دیتا ہے تو تم کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگلے جہان میں بھی وہ زندگی بخش سکتا ہے۔اُس کے لئے یہ کام ناممکن نہیں ہے۔تیسری دلیل علم کامل کی ہے۔علم کامل کے بعد بھی کسی چیز کا بنانا کوئی مشکل امر نہیں رہتا۔جس شخص کو پتہ ہو کہ