تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 181

سے دوسری صفت کا نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا جب تک وہ دونوں آپس میں لازم وملزوم نہ ہوں یا سابق مسبوق کی حیثیت اُن میں نہ پائی جاتی ہو یا سبب اور مسبب کے طور پر وہ دونوں اکٹھی نہ ہوں یعنی یا تو یہ ہو کہ جہاں ایک بات پائی جاتی ہو وہاں لازمًا دوسری بات بھی پائی جانی چاہیے تب بے شک ایک بات کو دوسری بات کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور یا پھر دونوں باتیں آپس میں ایسی مشابہ ہوں کہ ایک بات کی موجودگی دوسری بات کا یقین دلانے کے لئے بالکل کافی ہو۔مثلاً یہ کہنا کہ جب ایک شخـص عالم ہے تو وہ کُرسی بھی بنا سکتا ہے یا کُوچ بھی تیار کر سکتا ہے بیشک بے وقوفی ہے کیونکہ ان دونوں باتوںمیں ایسی کوئی نسبت نہیں پائی جاتی۔لیکن اگر ایک شخص ہم کو ایک انگریزی کتاب پڑھ کر سنائے اور ہم اس کے متعلق کہہ دیں کہ وہ دوسری انگریزی کتاب بھی پڑھ سکتا ہے اور وہ آگے سے کہہ دے کہ تم یہ نتیجہ کس طرح نکال سکتے ہو تو سب لوگ ہنس پڑیں گے کہ جب اُس نے ایک انگریزی کتا ب کو پڑھ لیا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ دوسری کتاب بھی پڑھ سکے گا بالکل درست اور طبعی نتیجہ ہے اس میں خلاف عقل کون سی بات ہے یا اگر کوئی شخص اردو کی کوئی کتاب پڑھ سکتا ہے اور ہم اس کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ وہ دوسری کتاب بھی جو اردو میں ہے پڑھ سکتا ہے تو یہ بالکل جائز ہو گا کیونکہ دونوں چیزوں میں آپس میں ایسی مشابہت پائی جاتی ہے کہ ایک بات کی موجودگی کی وجہ سے دوسری بات کا انکار ہی نہیں ہو سکتا۔قیامت کے ثبوت کے لئے تین ثبوت اب ہم دیکھتے ہیں کہ قیامت کے مشابہ کون کون سی چیز ہے۔قیامت کے لئے پہلی اور دوسری دلیل یعنی خدا تعالیٰ کی صفت خلق سو اس بارہ میں سب سے پہلی چیز جو قیامت سے مشابہت رکھتی ہے صفتِ خلق ہے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ خلق کرتا ہے خواہ اُس نے سابق میں خلق کیا ہو یا اب خلق کیا ہو تو بہرحال یہ ماننا پڑے گا کہ جو ہستی ایک دفعہ خلق کر سکتی ہے وہ دوسری دفعہ بھی کر سکتی ہے۔سوال صرف یہ رہ جائے گا کہ آیا اُس نے کہا بھی ہے یا نہیں کہ میں دوبارہ خلق کروں گا۔اگر اُس نے کہہ دیا ہو کہ میں دوبارہ بھی خلق کروں گا تو بات ختم ہو جاتی ہے اور ماننا پڑتا ہے کہ جو خدا ایک دفعہ پیدا کر سکتا ہے وہ دوسری دفعہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔پس اگر ہم ثابت کر دیں کہ خدا تعالیٰ اس جہان میں خلق کرتا ہے تو چونکہ خلق قیامت کے مشابہ چیز ہے اس لئے یہ دلیل اس بات کو ثابت کر دے گی کہ قیامت کا عقیدہ بھی درست ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس خلق کے مشا بہ کوئی اور خلق ہو جو ویسی ہی مستبعد اور تعجب انگیز ہو جیسے یہ خلق مستبعد اور تعجب انگیز ہے تو جو خدا اس خلق کے مشابہ خلق کر سکے گا اس کے متعلق ہمیں ماننا پڑے گا کہ اگر وہ دعویٰ کرے تو وہ قیامت کے دن بھی ایک نئی خلق پر قدرت رکھتا ہے کیونکہ اُس نے دکھا دیا کہ وہ ویسی ہی خلق اس دنیا میں کر سکتا ہے