تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 180
بعث روحانی کر دے وہ اگلے جہان میں بھی مردہ کو زندہ کر سکتا ہے۔فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کے مقابل اس دنیا میں عذاب میں گرفتار ہونا اس کے آخرت میں عذاب میں مبتلا ہونے کی ایک دلیل پس فرماتا ہے فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰى۔اللہ تعالیٰ نے اُس کو آخرت کے عذاب سے بھی پکڑا اور دنیا کے عذاب سے بھی پکڑا یہاں خدا تعالیٰ نے یَاْخُذُہُ اللہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو آخرت کے عذاب سے پکڑے گا بلکہ اَخَذَہُ اللّٰہُ فرمایا یعنی اللہ تعالیٰ نے اُسے نکالِ آخرۃ دینے کے لئے پکڑا جس کے معنے درحقیقت یہی ہیں کہ اس عذابِ اُولیٰ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد زندہ بھی ہو گا اور اُسے آخرت کا عذاب بھی دیا جائے گا۔ماضی کے لفظ سے قیامت کی موجودگی کی دلیل بیان کی گئی ہے اسی لئے آخرۃ کو پہلے رکھا اور اولیٰ کو بعد میں رکھا جس میں یہی اشارہ ہے کہ اس عذاب اُولیٰ نے ثابت کر دیا ہے کہ فرعون زندہ بھی ہو گا اور اُسے عذابِ آخرت میں بھی گرفتار کیا جائے گا۔گویا بتایا کہ محمدصلے اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی یہ پہلی مثال نہیں کہ تم اسے اتفاق قرار دے دو بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے۔جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی آیا ہے ناممکن حالات میں اُس نے غلبہ حاصل کیا ہے غلبہ کے سامان اُسے حاصل نہیں ہوتے۔طاقت اُس کے پاس نہیں ہوتی۔مال اُس کے پاس نہیں ہوتا۔جمعیت اس کے پاس نہیں ہوتی مگر پھر بھی خدا تعالیٰ اُسے غالب کر دیتا ہے اور اُس کے ہاتھ سے قوموں کا احیا ءکر تا ہے۔یہ دلیل ہوتی ہے اس بات کی کہ جب مخالف حالات میں اِس جگہ روحانی احیاء ہو گیا تو موت کے بعد بھی اِحیاء ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ سب کو زندہ کر دے گا۔جس خدا نے مردہ دلوں اور مردہ روحوں کو اس جہان میں ناممکن حالات میں زندہ کر دیا کیا وہ خدا یہ طاقت نہیں رکھتا کہ مردہ جسموں کوبظاہر ناممکن حالات میں زندہ کر دے۔یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو آج کل کے مفکّر کیا کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ سوال نہایت اہم ہے۔وہ سوال یہ کیا کرتے ہیں کہ کسی ایک چیز سے دوسری چیز کا نتیجہ نکال لینا منطقی طور پر درست نہیں ہے۔اگر ہم کسی کے متعلق یہ کہیں کہ وہ بہت بڑا عالم ہے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکل آئے گا کہ وہ کرسی بھی بنا سکتا ہے یا کُوچ بھی تیار کر سکتا ہے؟ وہ کہتے ہیں اگر تم ثابت بھی کر دو کہ خدا تعالیٰ نے بعض غیب کی خبریں دیں اور وہ پوری ہو گئیں تو اس سے اتنا ہی نتیجہ نکلے گا کہ جو خبریں دی گئی تھیں وہ پوری ہو گئیں یہ کس طرح نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ قیامت بھی آجائے گی اِن دوباتوں کا تو آپس میں کوئی جوڑ اور تعلق ہی نہیں۔اُن کی یہ دلیل واقعہ میں اہم ہے اور جس حد تک وہ بات بیان کرتے ہیں اُس حد تک ہمیں اُس کی صحت تسلیم کرنے سے کوئی انکار نہیں۔ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کسی ایک صفت