تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 177
یہ مضمون آتا تھا کہ جب فرعون کو یہ کہا گیا تو اُس نے بے رغبتی کا اظہار کیا اور کہا میں ایسی باتوں کی خواہش نہیں رکھتا تم میرے سامنے ایسی باتیں مت پیش کرو۔مگر اللہ تعالیٰ نے ان زوائد کو حذف کر دیا۔کیونکہ یہ باتیں خود بخود سمجھی جاسکتی ہیں۔بہرحال فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان لمبی بحث ہوئی جس کے نتیجہ میں فرعون کو آیت کبریٰ دکھائی گئی۔آیت کبریٰ سے مراد معجزہ عصاء یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ کون سی آیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آیت کبریٰ قرار دیا ہے۔نشانات تو بہت سے دکھائے گئے تھے چنانچہ قرآن کریم میں بھی دوسری جگہتِسْعَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ (بنی اسرائیل:۱۰۲ ) کے الفاظ آتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے نو نشانات دیئے جو بہت روشن اور واضح تھے۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَقَدْ اَرَیْنٰہُ اٰیَاتِنَا کُلَّھَا فَکَذَّبَ وَاَبٰی (طٰہٰ:۵۷ ) کہ ہم نے فرعون کو اپنی تمام آیات دکھائیں مگر پھر بھی اُس نے تکذیب کی اور انکار سے کام لیا۔پس سوال یہ ہے کہ جب فرعون کو بہت سے نشانات دکھائے گئے تو پھر آیت کُبری سے کون سا نشان مراد ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ سورۂ طٰہٰ سے ہی ظاہر ہے پہلے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا کا معجزہ دکھایا تھا یہاں بھی چونکہ فرعون سے پہلی ملاقات کا ہی ذکر ہے اس لئے آیات کبریٰ سے مراد عصا والا معجزہ ہے۔قرآن کریم نے بھی بار بار عصا کے معجزہ کا ذکر کیا ہے۔بیشک ید بیضاء کا معجزہ بھی کئی دفعہ ظاہر ہوا مگر بیضاء کا معجزہ ہمیشہ عصا والے معجزہ کے بعد ظاہر ہوا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبوت کے مقام پر کھڑا کیا گیا تو اُس وقت بھی پہلے عصا کا معجزہ ظاہر ہوا اور بعد میں یدِ بیضا کا۔فرعون کے سامنے ساحروں کے مقابلہ میں بھی عصا کا معجزہ ہی دکھایا گیا۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ دریا کو پار کیا تو اُس وقت بھی عصا ہی سمندر پر مارا گیا اور جب پانی کی سخت ضرورت تھی تو اُس وقت بھی عصا ہی چٹان پر مارا گیا۔پس عصا کے ساتھ خصوصیت سے کئی نشانات وابستہ تھے اِسی لئے اِس معجزہ کو آیت کُبریٰ قرار دیا گیا ہے خروج باب۷ آیت۸ تا۱۰ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عصا کا معجزہ ہی دکھایا تھا۔چنانچہ لکھا ہےاور خداوند نے موسیٰ اور ہارون کو کہا کہ جب فرعون تمہیں کہے کہ اپنا معجزہ دکھائو تو ہارون کو کہیو کہ اپنا عصا لے اور فرعون کے آگے پھینک دے وہ ایک سانپ بن جائے گا تب موسیٰ اور ہارون فرعون کے آگے گئے اور انہوں نے وہ جو خدا وند نے انہیں فرمایا تھا۔کیا۔ہارون نے اپنا عصا فرعون اور اس کے خادموں کے آگے پھینکا اور وہ سانپ ہوگیا۔قرآن کریم کے رُو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں ساحروں نے بھی یہی معجزہ دکھانا چاہا تھا جس