تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 176

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى ٞۖ۰۰۱۸فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ (اور فرمایا) فرعون کی طرف جا کیونکہ وہ باغی ہو رہا ہے۔اور ( اُسے) کہو کہ کیا تجھے (اس بات کی بھی کچھ) تَزَكّٰى ۙ۰۰۱۹ خواہش ہے کہ تُو پاک ہو جائے۔حَلّ لُغَات۔تَزَکّٰی تَزَکّٰی اصل میں تَتَزَکّٰی ہے جو تَزَکّٰی سے مضارع مخاطب کا صیغہ ہے اور تَزَکّٰی کے معنے ہیں صَارَزَکِیًّا۔پاک ہو گیا (اقرب) اور تَتَزَکّٰی کے معنے ہوں گے۔پاک ہوتا ہے۔اور ھَلْ لَّکَ اِلٰیٓ اَنْ تَزَکّٰی کے معنے ہوں گے۔کیا تیری اس طرف رغبت ہے کہ تُو پاک ہو۔تفسیر۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى تو فرعون کی طرف جا کیونکہ وہ بڑا سرکش ہو گیا ہے فَقُلْ هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى اور اسے کہہ ارے میاں کچھ پاکیزگی کا بھی دل میں شوق ہے۔هَلْ لَّكَ اِلٰۤى اَنْ تَزَكّٰى کے معنی یہ ہیں کہ ھَلْ لَّکَ رَغْبَۃٌ اِلٰی اَنْ تَزَکَّی کیا تزکیہ کی طرف بھی تجھے کچھ رغبت اور شوق ہے۔یہ بھی گفتگو کا ایک طریق ہوتا ہے جیسے ہمارے ہندوستان میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ پان کا شوق فرمائیں گے۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ارے میاں کچھ پاکیزگی کا بھی شوق ہے؟ اگر تزکیہ کا شوق ہو تو تمہیں کچھ باتیں بتائوں وَاَھْدِیَکَ اِلٰی رَبِّکَ اور میں تجھے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ بتائوں فَتَخْشٰی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا کا خوف تمہارے دل میں پیدا ہو جائے گا۔وَ اَهْدِيَكَ اِلٰى رَبِّكَ فَتَخْشٰىۚ۰۰۲۰فَاَرٰىهُ الْاٰيَةَالْكُبْرٰى ٞۖ۰۰۲۱ اور (اس کے نتیجہ میں)مَیں تجھے تیرے رب کی طرف راستہ دکھائوںپس تو (خدا سے) ڈرنے لگے چنانچہ (موسیٰ گئے اور انہوں نے) اُسے ایک بڑا نشان دکھلایا۔تفسیر۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم زائد باتیں حذف کر دیتا ہے۔پہلے فرمایا تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے کہا کہ اگر تمہیں پاکیزگی کا شوق ہو تو میں تمہیں کچھ ہدایت کی باتیں بتلائوں۔اس کے بعد