تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 178

سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن بھی اس معجزہ کی اہمیت کو تسلیم کرتا تھا۔بائیبل نے بیان کیا ہے کہ خون بنانے کا معجزہ بھی ساحروں نے دکھایا مگر قرآن کریم نے اس کا ذکر چھوڑ دیا ہے۔اصل معجزہ جو فرعون اور اس کے ساتھیوں کو دکھایا گیا عصا کا ہی تھا باقی جس قدر معجزات تھے وہ اس کے تابع تھے۔فَكَذَّبَ وَعَصٰىٞۖ۰۰۲۲ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى ٞۖ۰۰۲۳ جس پر اس نے (موسیٰ کو) جھٹلایا اور نافرمانی کی۔مزید براں (اُس نے) فساد کی تدبیریں کرتے ہوئے حق سے فَحَشَرَ فَنَادٰى ٞۖ۰۰۲۴فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ۰۰۲۵ پیٹھ پھیر لی چنانچہ (اس نے درباریوں کو) جمع کیا اور (ملک میں عام) منادی (بھی) کرائی اور (لوگوں کو جمع کر کے) کہا کہ میں تمہاراسب سے بڑا رب ہوں۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے باوجود اس کے کہ فرعون کو آیت کبریٰ دکھائی گئی پھر بھی اُس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ثُمَّ اَدْبَرَ پھر پیٹھ پھیری۔یَسْعٰی اور مخالفت میں لگ گیا۔یَسْعٰی کے معنے سعی اور کوشش کے بھی ہوتے ہیں اور دروڑنے کے بھی۔یہاں یَسْعٰی سے مراد عملی کوشش کے ہیں نہ کہ قدموں سے بھاگنے کی کوشش کے۔اور مطلب یہ ہے کہ اُس نے پورا زور مخالفت میں لگایا اور اپنی تمام کوششیں موسیٰ ؑ کو برباد کرنے میں صرف کر دیں۔فَحَشَرَ فَنَادٰىمیں عوام اور خواص ہر دو قسم کے لوگوں کو بلانے کی طرف اشارہ فَحَشَرَ فَنَادٰی پھر اس نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا۔اور اُنہیں بلانے کے لئے منادی کی۔اکٹھا کرنے سے یہ مراد ہے کہ اُس کی طرف سے بڑے بڑے لوگوں کو چٹھیاں بھیجی گئیں کہ وہ فلاں دن جمع ہو جائیں۔دُنیا میں بُلانے کے دو ہی طریق ہیں۔معزز لوگوں کی طرف چٹھیاں بھیج دی جاتی ہیں اور عوام کو بُلانے کے لئے منادی کر دی جاتی ہے۔اُس نے بھی بڑے بڑے اُمراء اور سرداروں کو خاص طور پر چٹھیاں بھجوا دیں یا اُن کی طرف آدمی بھیج دئے کہ وہ فلاں دن پہنچ جائیں۔اور پھر عام منادی بھی کرا دی تاکہ سب لوگ جمع ہو جائیں۔جب سب لوگ اکٹھے ہوگئے تو وہ اُن سے کہنے لگا اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى میں تمہارا بڑا رب ہوں مگر یہ شخص تمہارے خلاف منصوبہ بازیاں کرتا رہتا ہے تم سب کو اس کے خلاف اکٹھے ہو جانا چاہیے۔