تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 175

اتفاق ہےحالانکہ تم اسے اتفاق نہیں کہہ سکتے۔پہلے نبیوں کے زمانہ میں بھی ایسا ہوتا چلا آیا ہے اور تمہارے سامنے اس کی مثالیں موجود ہیں۔تم کس کس شہادت کو اتفاق قرار دے کر اُس کا انکار کرو گے۔اوّل تو محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تمہارے سامنے صرف یہ پہلی پیشگوئی نہیں کی بلکہ اور بھی کئی پیشگوئیاں کی ہیں اور تم ان نشانات کو پورا ہوتے دیکھ چکے ہو۔لیکن اگر پھر بھی تم اس کو اتفاق قرار دو گے تو ہم تمہارے سامنے دوسری مثال پیش کرتے ہیں۔آنحضرت ؐ کے غلبہ کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات کا ذکر هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىکیا تمہیں کچھ موسیٰ کی بھی خبر ہے اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى جب خدا نے اُس کو طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا۔طویٰ شام میں ایک وادی بھی ہے اور طُویٰ کے معنے ہیں اَلشَّیْ ئُ الْمُثْنی (اقرب) ایسی چیز جو ٹیڑی ہو سیدھی نہ ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خدا کو دیکھنے اور آنحضرت ؐ کے خدا تعالیٰ کو دیکھنے میں فرق اس آیت میں ایک زبردست لطیفہ ہے اور وُہ یہ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب خدا تعالیٰ سے ملے تو وُہ وادیٔ طویٰ میں تھے جس کے معنے ٹیڑھی وادی کے ہیں لیکن رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب اللہ تعالیٰ سے ملے تو اُس وقت کا نقشہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں کھینچا ہے کہ دَنَا فَتَدَلّٰى۔فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (النجم :۹،۱۰) آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جا کھڑے ہوئے جس طرح دو قوسوںمیں وتر ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک ہو کر آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ وادیٔ طویٰ میں جو شخص کھڑا ہو گا وہ خدا تعالیٰ کو اُس طرح نہیں دیکھ سکے گا جس طرح قَابَ قَوْسَیْنِوالا دیکھ سکے گا۔مثلاً جب یہ شکل بنائی جائے  تو اس میں الفؔ مقام کو بؔ مقام والا نہیں دیکھ سکتا۔لیکن اس دوسری شکل میں  مقامِ الفؔ کو بؔ مقام والا دیکھ سکتا ہے۔اس میں درحقیقت اس امرکی طرف اشارہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھے گی لیکن محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متبع روحانیت میں درجۂ کمال حاصل کریں گے اور وُہ خدا تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ سکیں گے کیونکہ قَابَ قَوْسَیْنِ والی حالت میں آمنے سامنے ہو کر ایک دوسرے کو دیکھا جا سکتا ہے لیکن دوسری صورت میں آمنے سامنے ہو کر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ خدا ایک زاویہ پر رہتا ہے اور بندہ دوسرے زاویہ پر۔