تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 174
کہ مسلمانوں میں یہ جرأت کہاں ہو سکتی ہے کہ وہ ہمارے مقابلہ میں آئیں۔اِدھر مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ہم کسی یقینی لڑائی کے لئے نہیں جا رہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت سےدونوں کو ایک مقام پر لڑائی کے لئے جمع کر دیا۔دوسری جگہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّ يَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ (الانفال:۴۳) یعنی ہم اپنے حکم سے تم دونوںکو نکال کر لائے تھے ورنہ نہ وہ آتے نہ تم آتے۔اُن کے لئے بھی کوئی جنگ کا موقع نہ تھا کیونکہ اس وقت ان کے مدنظر یہ بات تھی کہ قافلہ اپنےساتھ جو جو چیزیں لایا اسے ہم بیچیں اور روپیہ کمائیں دوسری طرف مسلمانوں کے دلوں میں بھی لڑائی کی کوئی خواہش نہ تھی۔یہ اللہ تعالیٰ کا ہی فیصلہ تھا جس نے دونوں کو لڑائی کے لئے جمع کر دیا۔فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۵ چنانچہ وہ یکدم (جنگ کے) میدان میں آموجود ہوں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلسَّاھِرَۃُ السَّاھِرَۃُ قِیْلَ وَجْہُ الْاَرْضِ (مفردات)یعنی سَاھِرَۃ کے معنے سطح زمین کے ہوتے ہیں۔اسی طرح اقرب الموارد میں لکھا ہے اَلسَّاھِرَۃُ وَجْہُ الْاَرْضِ۔سطح زمین۔وَقِیْلَ اَلْفَلَاۃُ۔جنگل۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے صرف ایک دفعہ تمہیں ہنکا کر لانے پر کفّار مسلمانوں کے مقابل پر بالکل ننگے ہو جائیں گے اب آگے آگے دیکھنا کیا ہوتا ہے۔جب اس ایک واقعہ سے قیامت کے متعلق اُن کے دلوں میں خیالات پیدا ہونے شروع ہو جائیں گے تو آئندہ کیا ہو گا جب تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ کا وقت آئے گا اور پے در پے اُنہیں مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ کے لئے ہنکا کر لایا جائے گا۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰىۘ۰۰۱۶اِذْ نَادٰىهُ رَبُّهٗ بِالْوَادِ کیا تجھے موسیٰ کی بات (بھی) پہنچی ہے۔جبکہ ااُسے اس کے رب نے ( اس) مقدس وادی الْمُقَدَّسِ طُوًى ۚ۰۰۱۷ یعنی طویٰ میں پکارا۔تفسیر۔فرماتا ہے جب یہ واقعات ظہور میں آئیں گے تو تم اپنے دل کو تسلی دینے کے لئے کہو گے کہ یہ محض