تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 148

جرنیل کہتا ہے کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دو انصاری لڑکوں کو دیکھا جو پندرہ پندرہ سال کی عمر کے تھے میں نے اُن کو دیکھ کر کہا آج دل کی حسرتیں نکالنے کا موقعہ نہیں بدقسمتی سے میرے اردگرد ناتجربہ کار بچے اور وہ بھی انصاری بچے کھڑے ہیں جن کو جنگ سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔میں اسی ادھیڑ بُن میں تھا کہ دائیں طرف سے میرے پہلو میںکہنی لگی میں نے سمجھا کہ دائیں طرف کا بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے اور میں نے اس کی طرف اپنا منہ موڑا۔اُس نے کہا کہ چچا ذراجھک کر بات سنو میں آپ کے کان میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں تا کہ میرا ساتھی اس بات کو نہ سُن لے۔وہ کہتے ہیں جب میں نے اپنا کان اُس کی طرف جھکایا تو اس نے کہا چچا وہ ابوجہل کون سا ہے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اس قدر دکھ دیا کرتا تھا۔چچا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اُس کو ماروں۔وہ کہتے ہیں ابھی اس کی یہ بات ختم نہ ہوئی تھی کہ میرے بائیں پہلو میں کہنی لگی اور میں اپنے بائیں طرف کے بچے کی طرف جھک گیا اور اس بائیں طرف والے بچے نے بھی یہی کہا کہ چچا وہ ا بو جہل کون سا ہے جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اتنا دکھ دیا کرتا تھا۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اس کو ماروں۔حضرت عبدا لرحمٰن بن عوف کہتے ہیں باوجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میرے دل میں یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ ابو جہل جو فوج کا کمانڈر تھا جو تجربہ کار سپاہیوں کے حلقہ میں کھڑا تھا اس کو میں مار سکتا ہوں۔میں نے انگلی اٹھائی اور ایک ہی وقت میں اُن دونوں لڑکوں کو بتا یا کہ وہ سامنے جو شخص خَود پہنے زرہ میں چھپا ہوا کھڑا ہے جس کے سامنے مضبوط اور بہادر جرنیل ننگی تلواریں اپنے ہاتھوں میں لئے کھڑے ہیں وُہ ابوجہل ہے۔میرا مطلب یہ تھا کہ میںاُن کو بتائوں کہ تمہارے جیسے ناتجربہ کار بچوں کے اختیار سے یہ بات باہر ہے۔مگر وہ کہتے ہیں میری وہ انگلی جو اشارہ کر رہی تھی ابھی نیچے نہیںجھکی تھی کہ جیسے باز چڑیا پر حملہ کرتا ہے اسی طرح وہ دونوں انصاری بچے کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے ابوجہل کی طرف دوڑنا شروع ہوئے۔ابو جہل کے آگے عکرمہ اس کا بیٹا کھڑا تھا جو بڑا بہادر اور تجربہ کار جرنیل تھا مگر یہ انصاری بچے اس تیزی سے گئے کہ کسی کو وہم و گمان بھی نہ ہو سکتا تھا کہ کس مقصد کے لئے یہ آگے بڑھے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ابو جہل پر حملہ کرنے کے لئے کفار کی صفوں کو چیرتے ہوئے عین پہر ہ داروں تک جا پہنچے۔ننگی تلواریں اپنے ہاتھ میں لئے جو پہرے دار کھڑے تھے وہ وقت پر اپنی تلواریں بھی نیچے نہ لا سکے صرف ایک پہرے دار کی تلوار نیچے جھک سکی اور ایک انصاری لڑکے کا بازو کٹ گیا مگر جن کو جان دینا آسان معلوم ہوتا تھا ان کے لئے بازو کا کٹنا کیا روک بن سکتا تھا۔جس طرح پہاڑ پر سے پتھر گرتا ہے اسی طرح وہ دونوں لڑکے پہرہ داروں پر دبائو ڈالتے ہوئے ابوجہل پر جا گرے اور جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی کفار کے کمانڈر کو جا گرایا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں جنگ کے آخری وقت میں وہاں پہنچا جہاں ابو جہل جان کندنی کی