تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 147
جنگ بدر کے موقعہ پر مسلمانوں کا اندازہ لگانے کے لئے بھجوایا اُس نے واپس آ کر کہاکہ مسلمان تین سو یا اس کے لگ بھگ ہوں گے اور یہ اندازہ صحیح تھا مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳ تھی۔مگر اُس کے بعد اس نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم گو وہ تھوڑے ہیں مگر میرا مشورہ یہ ہے کہ اُن سے جنگ نہ کرو کیونکہ میں نےاونٹنیوںپر آدمی نہیں بلکہ موتیں سوار دیکھی ہیں (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر غزوۃ بدرالکبریٰ ، تشاور قریش فی الرجوع عن القتال) یعنی اُن میں سےہر شخص کے چہر ہ سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ لڑتے لڑتے مر جانے کے لئے آیا ہے اس لئے نہیں آیا کہ یہاں سے زندہ واپس جائے۔پہلے تو کفار مکّہ اُس کی بات سے متاثر ہوئے مگر ابو جہل کی ایک تدبیر سے لڑائی شروع ہو گئی۔فریضہ جنگ کو ادا کرنے میں مسلمانوں کی حیرت انگیز قربانیاں دوسری شہادت اس کی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے ملتی ہے۔بدر کی جنگ کے کچھ عرصہ بعد جب اُن کے لڑکے عبدالرحمٰن بھی مسلمان ہو کر مدینہ آگئے تو ایک دفعہ کسی مجلس میں باپ بیٹا دونوں آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور پُرانی باتوں کا تذکرہ جاری تھا کہ باتوں باتوں میں جنگ بدر کا ذکر آگیا۔عبدالرحمٰن نے کہا ابّا جان کئی دفعہ آپ لڑتے لڑتے ایسی جگہ پر پہنچے جہاں آپ میری زد میں ہوتے تھے۔لیکن ہر دفعہ میں نے حملہ سے گریز کیا اور میں نے کہا کہ میں اپنے باپ کو تو نہیں مار سکتا۔تب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میری نظر تم پر نہ پڑی ورنہ اگر میری نظر پڑ جاتی تو میں نے کوئی لحاظ نہیں کرنا تھا کہ یہ میرا بیٹا ہے بلکہ میں نے اُسی وقت تم کو قتل کر دینا تھا (الروض الانف شرح ابن ہشام الجزء الثالث غزوۃ بدر فصل وذکر قول ابی بکر الصدیق ؓ لابنہ۔۔۔) حالانکہ عام طور پر بیٹوں کو اپنے باپ سے جو محبت ہوتی ہے اس سے بہت زیادہ باپ کو اپنے بیٹوں سے محبت ہوتی ہے۔مگر یہ اسلام کی ہی روح تھی جس نے ہر باپ اور ہربیٹے ،ہر خاوند اور ہر بیوی کو اس بات پر آمادہ کر دیا تھا کہ سچائی کے راستہ میں کوئی چیز بھی روک ہو ہم نے اس کی پروا نہیں کر نی۔غرض مومنین و کفار کی شہادتوں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ صحابہؓ کی جماعتیں وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا کی مصداق تھیں پہلے وہ صلح سے رہے اور صبر دکھایا تو حد تک دکھایا اور جب نَازِعَات بنے اور تیر کمان ہاتھ میں پکڑ لئے تو غَرْقًا ہونے کا ایسا ثبوت دیا کہ جب تک تن سے جان نہیں نکل گئی کمان کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَلی اَصْحٰبِ مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔کفار کے لئے اسی دنیا میں يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا کا نظارہ چنانچہ اس اخلاص کا نتیجہ یہ نکلا کہ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا کا نظارہ کفار نے اسی دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ابو جہل جو مکّہ کے تمام گھرانوں کا سردار اور کفار کی فوج کا کمانڈر تھا جب بد رکی جنگ کے موقعہ پر وہ فوج کی ترتیب کر رہا تھا حضرت عبدالرحمٰن بن عوف جیسا تجربہ کار