تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 149
حالت میں پڑا ہوا تھا میں نے کہا سنائو کیا حال ہے اُس نے کہا مر رہا ہوں پر حسرت سے مر رہا ہوں کیونکہ مرنا تو کوئی بڑی بات نہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ دل کی حسرت نکالنے سے پہلے انصار کے دو چھوکروں نے مجھے مار گرایا۔مکہ کے لوگ انصار کو بہت حقیر سمجھا کرتے تھے اسی لئے اُس نے افسوس کے ساتھ اس کا ذکر کیا اور کہا کہ یہی حسرت ہے جو اپنے دل میں لئے مر رہا ہوں کہ انصار کے دو چھوکروں نے مجھے مار ڈالا۔پھر وہ ان سے کہنے لگا میں اس قدر شدیدتکلیف میں ہوں کہ تم مجھ پر احسان کرو گے اگر تلوار کے ایک وار سے میرا خاتمہ کر دو مگر دیکھنا میری گردن ذرالمبی کاٹنا کہ جرنیل کی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس کی گردن لمبی کاٹی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کی یہ بات تو مان لی کہ مجھے قتل کر دو اور اس دکھ سے بچا لو مگر انہوں نے ٹھوڑی کے پاس سے اُس کی گردن کو کاٹا۔گویا مرتے وقت اس کی یہ حسرت بھی پوری نہ ہوئی کہ اس کی گردن لمبی کاٹی جائے (سیرت النبویّۃ لابن ہشام زیر عنوان ذکر رویا عاتکۃ بنت عبد المطلب عود الی مقتل ابی جھل)دیکھو کس واضح طور پر یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا۔اَلْ کو ہم معہود ذہنی کے طور پر بھی لے سکتے ہیں اور کمال کے معنوں میں بھی لے سکتے ہیں اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ وَیَقُوْلُ الْکَافِرُ یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا۔میں الْکَافِرُ سے مراد کفرکا مجسمہ یا کافروں کا سردار ابوجہل تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اُس دن یہ کافر کہے گا اے کاش میں اس سے پہلے مٹی ہو چکا ہوتا۔چنانچہ واقعات پر غور کرو اور سوچو کیا ابو جہل نے اس دن نہیں کہا کہ اے کاش میں اس سے پہلے مٹی ہو چکا ہوتا۔اُس نے اپنی ذلّت کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس طرح وہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہو گئی جو سو رۂ نبأ میں بیان کی گئی تھی۔النّٰشِطٰتِ نَشْطًامیں مسلمانوں کے کفار پر غالب آنے کی پیشگوئی اس کے بعدکی آیت ہے وَالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کا نتیجہ یہ نہ ہو گا کہ مسلمان مارے جائیں۔پہلی آیت نے شکست کا سوال حل کر دیا تھا اور بتا دیا تھا کہ اُن کے سامنےشکست وفتح کا کوئی سوال نہیں ہو گا اُن کے سامنے سوال صرف یہ ہو گا کہ اسلام پر پروانہ وار فدا ہو جائیں۔اب اِس آیت میں دوسرے سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ کیا اسطرح اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کے نتیجہ میں وہ تباہ ہو جائیں گے فرماتا ہے نہیں ایسا نہ ہو گا اس جنگ کے نتیجہ میں مسلمان مارے نہیں جائیں گے بلکہ جیتیں گے اور رسیوں سے اپنے دشمنوں کو باندھیں گے اور قید کریں گے چنانچہ بدر کی جنگ میں بہت سے قیدی ہاتھ آئے اور رسیوں سے ہی باندھے گئے۔(الزرقانی غزوۃ بدر) السّٰبِحٰتِ سَبْحًامیں مسلمانوں کے مدینہ سے دور جا کر جنگیں کرنے کی پیشگوئی وَ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ