تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 7
پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ ان تین چیزوں میںسے کون سی چیز یہاں مراد ہے کیونکہ قرآن کریم کے کئی بطن ہوتے ہیں اور قرآن کریم بعض دفعہ ایک ہی دلیل سے کئی کئی مضمون ثابت کرتا ہے۔مثلاًاگر کسی جگہ یہ ذکر ہوکہ زید فلاں ملک میں گیا ہے یا نہیں اور دوسری جماعت میں یہ بحث ہو کہ زید ایک مغلوب شخص تھا یا غالب۔تو اگر ہم یہ فقرہ کہہ دیں کہ زید اس ملک میں گیا اور اُس نے فتح پائی۔تو یہ فقرہ ان دونوں سوالوں کو حل کر دے گا۔اس فقرہ میں اس پارٹی کا بھی جواب آجائے گا جویہ بحث کرتی تھی کہ زید اس ملک میں گیا تھا یا نہیں اور اُس پارٹی کا بھی جواب آجائے گاجو یہ بحث کرتی تھی کہ زید مغلوب شخص تھا یا غالب۔اسی طرح بعض دلائل کا مجموعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف ایک نتیجہ پیدا نہیں کرتا بلکہ کئی نتائج اُس سے پیدا ہو جاتے ہیں۔پس جب ہم کوئی دلیل بیان کریں تو جتنے پہلو اس دلیل میں سے نکل سکتے ہوں وہ سارے ہی ثابت ہو جائیں گے۔بعث بعد الموت اور احیاءِ روحانی کا آپس میں لازم و ملزوم ہونا بعث بعد الموت درحقیقت اُس بعثِ روحانی کے مشابہ چیز ہے جو اس دنیا میں ہوتی ہے۔اس لئے ایک دلیل دوسری دلیل کو ثابت کر دیتی ہے۔بعثِ روحانی اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ بعث بعد الموت بھی ہو گی اور بعث بعد الموت اس بات کا ثبوت ہے کہ بعثِ روحانی بھی ضرور ہوتی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ انسان کی روح کو مدارجِ عالیہ پر پہنچاتا ہے تو ایسی روح کا کوئی عظیم الشان مقصد اور مدعا ہونا چاہیے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مدارجِ عالیہ پر پہنچا کر اللہ تعالیٰ روح کو فنا کر دے گا اور آگے اس کا کوئی کام نہیں ہو گا۔اور اگرمرنے کے بعد انسان کے لئے کوئی زندگی ہے توپھر لازماً اس دُنیا میں احیاءِ روح بھی ہونا چاہیے کیونکہ ایک انسان کو دائمی چکر میں ڈال دینا اور اس ابدی زندگی میں جو خلودوالی ہے اللہ تعالیٰ کے انعامات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہ بتانا یہ بھی ایک ظلم ہے۔اگر اللہ تعالیٰ ہم کو مرنے کے بعد خلود والی زندگی بخشے گاتو لازماًاس زندگی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کا سامان بھی اس دُنیا میں ہونا چاہیے۔گویا ان دونوں سوالوں کا انحصار ایک دوسرے پر ہے اگر ایک ہے تو لازماً دوسری بھی ہے اور اگر دوسری ہے تو لازماً پہلی بھی ہے۔اور چونکہ وہ روحانی زندگی جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اُس کے متعلق قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس زمانہ میں روحانی زندگی بخشنے والا میں ہی ہوں اس لئے یہ بھی پہلے دونوں سوالوں کے ساتھ شریک ہو گیا۔یعنی جس دلیل سے یہ ثابت ہو گا کہ اس دنیا میں احیا ءِ روح کے کوئی سامان ہونے چاہئیں وہ قرآن کریم کے دعویٰ کے مطابق یہ بھی ثابت کرے گی کہ قرآن کریم سچا ہے کیونکہ قرآن کریم ہی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس زمانہ میں روحانی زندگی بخشنے کے لئے وہ مقرر ہے۔پس ایک ہی دلیل سے یہ تینوں امر ثابت ہو جائیں گے۔اگر کسی دلیل سے یہ ثابت ہو گا کہ مرنے کے بعد کی زندگی ایک یقینی چیز ہے اور