تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 8
وہ ضرور آنےوالی ہے تو اُسی دلیل سے یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ اس دنیا میں احیائِ روح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سامان رکھے گئے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ میں ہی اس کام کوسر انجام دیتا ہوں بالکل صحیح اور درست ہے۔کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ روحانی مدارج جو نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں انسان کو اس دنیا میں ملتے ہیں تو ساتھ ہی یہ ثابت ہو جائے گا کہ قرآن کریم ہی یہ درجے دینے والا ہے۔اس لئے کہ یہ درجے قرآن کریم کو ماننے والوں کوہی حاصل ہوتے ہیں اَور لوگوں کو حاصل نہیں ہوتے۔اسی طرح جب یہ ثابت ہو جائے گاکہ قرآن کریم پر عمل کرنے کے نتیجہ میں بڑے سے بڑے روحانی مدارج انسان کو اس دنیا میں حاصل ہو سکتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گاکہ مرنے کے بعد بھی زندگی ہے کیونکہ ان مدارجِ روحانیہ کے حصول کو ہم لغو اور فضول نہیں کہہ سکتے۔گویا اگر یہ ثابت ہو گا کہ قرآن کریم روحانی مدارج عطا کرتا ہے تواس کے لازماً یہ معنے ہوں گے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑے بڑے مدارج عطا ہوں گے۔اور اگر یہ ثابت ہو گا کہ قرآن کریم پر عمل کرنے کے نتیجہ میںانسان کو روحانی مدارج حاصل ہوتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہو جائے گاکہ مرنے کے بعد ضرور کوئی زندگی ہے کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ انسان کو اعلیٰ قابلیتیں دے کر اُن کے ظہور کا موقع ملنے سے پہلے اُسے فنا کر دیا جائے۔پس یہ تینوں چیزیں آپس میں لازم ملزوم ہیں اور ان میں سے ایک کے ثابت ہونے سے باقی دو چیزیں خود بخود ثابت ہو جاتی ہیں۔غرض اگر ہم نبأ عظیم کے معنے قرآن کریم کے لیں اور پھر ساتھ ہی بعث بعد الموت اور غلبۂ اسلام کے بھی تو یہ کوئی شبہ والی بات نہیں ہو گی بلکہ تینوں معنے آپس میں لازم ملزوم ہوں گے۔بعض چیزوں کاتعددشک پر دلالت کرتا ہے اور بعض چیزوں کا تعدد لزوم پر دلالت کرتا ہے۔یہاں تعددِ لزومی ہے تعددِ شکی نہیں۔نبأ عظیم کا لفظ جو اس موقع پر استعمال ہوا ہے وہ درحقیقت ان تین معنوں پر ہی استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے وہ بھی ایک ایسی خبر ہے جو بڑی خبروں کی سرتاج ہے۔یہ کہہ دینا کہ فلاں کے ہاں بیٹا پیدا ہو جائے گایا فلاں ملک میں لڑائی ہو جائے گی اس خبر کے مقابلہ میں بہت ہی ادنیٰ اور معمولی ہیں۔بے شک یہ خبریں بھی اپنی ذات میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں مگر یہ خبریں اُس قدر اہمیت نہیں رکھتیں جتنا یہ کہنا کہ ایک زمانہ میں ساری دنیا زندہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو گی۔پسنبأ عظیم کا لفظ قیامت کے بالکل مطابق ہے اور یہ لفظ اُس پر بخوبی چسپاں ہو جاتا ہے۔اسی طرح نبأ عظیم کا لفظ قرآن کریم پر بھی چسپاں ہو جاتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں ساری خوبیوں کا جامع ہوں بلکہ گز شتہ تما م انبیاء کی کتابیں میرے اندر جمع ہیں جیسا کہ وہ فرماتا ہےفِیْھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃٌ (البیّنۃ:۴)