تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 70

چالیس ہزار چیونٹیاں بطورنقیب اور ہر نقیب کے ساتھ چالیس چالیس ہزار چیونٹیاں بطورچوبداررہاکرتی تھیں۔(تفسیر ابن کثیر ،وتفسیر حسینی) حالانکہ پہلی بات جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اس جگہ نملہ سے مراد چیونٹی نہیں یہ ہے کہ اوپر ذکرتویہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضر ت سلیمان علیہ السلام کومنطق الطیر سکھائی تھی۔مگراس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان علیہ السلام سمجھ گئے کہ اس نے کیا کہا ہے۔حالانکہ جب دعویٰ یہ تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی بولی آتی تھی تودلیل میں کسی پرندے کی مثال پیش کرنی چاہیے تھی۔مگرمفسرین کہتے ہیںکہ چیونٹی بولی توحضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھ آگئی جو عُلِّمْنَامَنْطِقَ الطَّیْرِ کاثبوت ہے۔حالانکہ چیونٹی پرندہ نہیں۔پس نملہ سے مراد اگرچیونٹی لی جائے تویہ دلیل بالکل عقل میں نہیں آسکتی۔قرآن جوکچھ کہتاہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں کی بولی آتی تھی۔اوروہ اس کو سمجھتے تھے مگر بولنے لگ جاتی ہے نملہ۔اوروہ اس بات کوسمجھ جاتے ہیں۔غرض پہلی بات جو اس ضمن میں قابل غور ہے و ہ یہ ہے کہ نملہ کیا چیز ہے ؟ دوسری چیز یہ قابل غور ہے کہ یہاں حطم کالفظ آتاہے اور حَطَمَ کے معنے توڑنے اورغصہ سے حملہ کرنے کے ہوتے ہیں۔عام طور پر لوگ اس کاترجمہ یہ کردیتے ہیں کہ سلیمانؑ اوراس کالشکرتمہیں اپنے پیروں کے نیچے نہ کچل دیں۔مگر یہ حَطَمَ کے درست معنے نہیں۔عربی میں حَطَمْ کے معنے توڑدینے اورغصہ میں حملہ کردینے کے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں دوزخ کی آگ کاایک نام حُطَمَۃ بھی رکھا گیاہے کیونکہ وہ جلادیتی ہے۔یہ مطلب نہیں کہ آگ کے پیرہوں گے اوروہ لوگوںکواپنے پائوں کے نیچے مسل دے گی۔پس لَایَحْطِمَنَّکُمْ کے معنے یہ ہوئے کہ ایسانہ ہوسلیمانؑ اوراس کالشکر تمہیں توڑدے یا غصہ سے حملہ کردے اورتباہ کردے۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت سلیمانؑ جو اتنے بڑے نبی تھے جن کے پاس جنّوں اورانسانوں اورپرندوں کے لشکر درلشکر تھے کیاان کا ساراغصہ چیونٹی پر نکلناتھا اور کیاان سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ چیونٹیوں پر حملہ کرنے لگ جائیں گے۔میں بتاچکاہوں کہ لَایَحْطِمَنَّکُمْ کے معنے پیروں میں مسل دینے کے نہیں بلکہ طاقت کوتوڑدینے اورحملہ آور ہونے کے ہیں۔اسی لئے عربی زبان میں قحط کو حاطوم کہتے ہیں۔کیونکہ ا س سے ملک کی طاقت ٹوٹ جاتی ہے۔اگریہ معنے کئے جائیں توپھر اس کا مطلب یہ ہوگاچیونٹیوں نے ایک دوسری سے کہا کہ اپنے اپنے بلوں میں گھس جائوایسانہ ہوکہ سلیمان اوراس کالشکر کلہاڑیاں او رکدالیں لے کر آجائے اورہماری بلوںکو کھود کھودکر غلّہ کے دانے نکال لے اوراس طرح ہماری طاقت کو توڑ دے۔مگرکیاکوئی عقلمند ان معنوںکو درست تسلیم کرسکتاہے ؟