تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 71
تیسری دلیل جونہایت ہی بیّن اور واضح ہے وہ یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے جتنے صیغے استعمال کئے ہیں سب وہ ہیں جوذی العقول کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔مثلاً اُدْخُلُوْا کالفظ آتاہے۔حالانکہ چیونٹیوں کے لحاظ سے اُدْخُلْنَ کالفظ آناچاہیے تھا اسی طرح لَایَحْطِمَنَّکُمْ میں کُمْ کالفظ آتاہے۔حالانکہ کُنَّ کالفظ آناچاہیے تھا۔پس قرآن مجید کے الفاظ بتارہے ہیں کہ یہ کوئی انسان تھے جن کے لئے کُمْ اور اُدْخُلُوْا وغیرہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔پھر وَھُمْ لَایَشْعُرُوْنَ کہہ کربھی اس بات کو واضح کردیاگیاہے کہ وہ چیونٹیاں نہیں تھیں۔کیونکہ لشکرتوالگ رہے چیونٹیاںتونبیوں کے پائوں کے نیچے بھی آجاتی ہیں۔پس اگراس جگہ نملہ سے مرادچیونٹی لی جائے تویہ کہنا کہ سلیمانؑ اوراس کالشکر تم کو بے جانے اپنے پائوں کے نیچے کچل نہ دے ایک بالکل بے معنے فقرہ بن جاتا ہے۔کیا دنیا کی کسی بھی مذہبی کتاب میں لکھا ہے۔خواہ اسلامی ہویاقبل ازاسلام کی کوئی اور کتاب کہ کوئی نبی سرجھکا کر زمین کی طرف دیکھتے ہوئے چلتاتھا کہ کہیں کوئی چیونٹی اس کے پیروں کے نیچے نہ آجائے۔حقیقت یہ ہے کہ وادی النمل کوئی چیونٹیوں کی وادی نہیں تھی بلکہ ایک حقیقی وادی تھی جس میں انسان بستے تھے۔چنانچہ تاج العروس جو لغت کی مشہور کتا ب ہے اس میں لکھا ہے کہ شام کے ملک میںجبرین اورعسقلان کے درمیان ایک علاقہ ہے جسے وادی النمل کہاجاتاہے اورعسقلان کے متعلق تقویم البلدان میں لکھا ہے کہ یہ ساحل سمندر کے بڑے بڑے شہروں میں سے ایک شہر ہے جو غزہ سے جوسیناکے ملحق فلسطین کی ایک بندرگاہ ہے بارہ میل اوپر شمال کی طرف واقع ہے۔اورجبرین شمال کی طرف کاایک شہر ہے جو ولایت دمشق میں واقع ہے۔(تقویم البلدان ص ۲۳۸و معجم البلدان لیاقوت الحموی باب الباء والیاء وما یلیہ) پس وادی النمل ساحل سمندر پر یروشلم کے مقابل پر یااس کے قریب دمشق سے حجاز کی طرف آتے ہوئے ایک وادی ہے جواندازاًدمشق سے سومیل نیچے کی طر ف تھی ان علاقوںمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت تک عرب اور مدین کے بہت سے قبائل بستے تھے (مقام کی وضاحت کے لئے دیکھو نقشئہ فلسطین و شام بعہد قدیم و عہد جدید نیلسنز انسائیکلوپیڈیا(Nalson Encyclopedia جلد ۱۷ زیر لفظ Palestine)) اب ر ہ گیا نملہ سوقاموس میں البرق کے ماتحت لکھا ہے۔وَالْأَ بْرَقَۃُ مِنْ مِیَاہِ النَّمْلَۃِ (قاموس المحیط) کہ نملہ قوم کے چشموں میں سے ایک چشمہ کانام ابرقہ تھا۔غرض لغت اور جغرافیہ کی مدد سے ہمیں نملہ قوم بھی مل گئی اور وادی النمل کا بھی پتہ چل گیا اوریہ بھی معلوم ہوگیاکہ یہ علاقہ شام میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے علاقہ کے نزدیک تھا۔اوریہ عجیب بات ہے کہ اس قسم کے نام پرانے زمانہ میں بڑے مقبول تھے چنانچہ جنوبی امریکہ میں