تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 69

اے بھائیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جائو۔ایسانہ ہوکہ سلیمانؑ کا لشکر تمہیں بے خبری میں اپنے پائوں تلے روند ڈالے۔حضرت سلیمان علیہ السلام اس کایہ قول سن کر ہنس پڑے اورانہوںنے کہا۔اے میرے خدا! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوںکا شکراداکرسکوں جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کی ہیں اورمیں ایسے نیک اور مناسب حال اعمال بجالائوں جن سے توراضی ہوجائے اورتو مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔مفسرین نے جس طرح جنّوں اور پرندوں کے متعلق مبالغہ سے کام لیاہے۔اسی طرح وادی النمل کے متعلق بھی بہت مبالغہ سے کام لیا ہے اورلکھا ہے کہ یہ ایک وادی تھی جس میں چیونٹیاں رہتی تھیں اور چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی جانتے تھے اس لئے جب چیونٹی بولی تو حضرت سلیمان علیہ السلام فوراً سمجھ گئے کہ اس نے کیاکہاہے۔نہ معلوم ہمارے مفسرین نے کس کتاب میں پڑھا ہے کہ چونٹیاں بھی پرندوں کی ایک قسم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے تویہ فرمایاتھا کہ ہم نے سلیمان کو منطق الطیر کاعلم دیاتھا مگرہمارے مفسرین نے ان کو چیونٹیوں کی بولی کاعلم بھی بخش دیا۔وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں لمبے عرصہ تک بارشیں نہ ہوئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایاکہ چلو شہرسے باہر نکل کر استسقاء کی نماز پڑھیں۔جب آپ نماز پڑھنے جارہے تھے۔تو آپ نے دیکھا کہ ایک چیونٹی اپنی اگلی ٹانگیں اٹھاکر اورآسمان کی طرف منہ کرکے خدا تعالیٰ سے یہ دعامانگ رہی ہے کہ خدایا ہم بھی تیری مخلوق ہیں ہمیں بارش سے محروم نہ رکھ۔آپ نے یہ دعاسنتے ہی فرمایاکہ اب استسقاء کی نماز پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں واپس چلو۔اس چیونٹی کی دعاہی کافی ہے اوراسی کے نتیجہ میں بارش برس جائے گی۔(تفسیر ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان جلد ۷ص ۲۰۶) پھر مفسرین نے اپنی تحقیق یہیں تک ہی نہیں رہنے دی بلکہ انہوں نے چیونٹیوں کے قبیلوں کابھی پتہ لگایاہے۔وہ کہتے ہیں کہ جس طرح انسانوں میں مغل اورراجپوت او رپٹھان وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح چیونٹیوں میں بھی مختلف قومیں اورقبائل ہیں۔چنانچہ یہ علم آپ لوگوںکے کام آئے گا کہ چیونٹیوں کے ایک قبیلہ کانام انہوں نے بنوشیصان بتایاہے اورلکھا ہے کہ اسی قبیلہ کی ایک چیونٹی نے یہ بات کہی تھی اورپھر انہوں نے بڑی تحقیق کے بعد اس کے نام کابھی پتہ لگانے کی کوشش کی ہے۔گوافسوس ہے کہ کسی ایک نام پر ان کا اتفاق نہیں ہوسکا۔چنانچہ بعض نے اس کانام منذرہ بعض نے طافیہ یالافیہ اور بعض نے خرمی بتایاہے اورپھر یہ بھی لکھا ہے کہ وہ چیونٹی ایک پائوں سے لنگڑی تھی۔اسی طرح مفسرین نے اس کاقد بھی بتایاہے۔چنانچہ بعض کہتے ہیں وہ مرغ کے برابرتھی۔بعض کہتے ہیں بھیڑکے برابر تھی اوربعض کہتے ہیں وہ بھیڑیے کے برابر تھی۔اسی طرح مفسرین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس نملہ کے ساتھ