تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 68
شاعر کمزور ہوتے تھے چنانچہ حسان بن ثابتؓ کے متعلق آتاہے کہ ان کادل بہت کمزور تھا۔حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ يّٰۤاَيُّهَا یہاں تک کہ جب وہ وادی نملہ میں پہنچے تونملہ قوم میں سے ایک شخص نے کہا اے نملہ قوم! النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمٰنُ وَ اپنے اپنے گھروں میں چلے جاؤ۔ایسانہ ہو کہ سلیما ن ا وراس کے لشکر (تمہارے حالات کو ) جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۰۰۱۹فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا نہ جانتے ہوئے تمہیں پیروں کے نیچے مسل دیں۔پس وہ (یعنی سلیمان ؑ) اس کی بات سن کر ہنس پڑا۔وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ اورکہا۔اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ تیری نعمت کا جو تُونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہے وَ عَلٰى وَالِدَيَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِيْ شکریہ اداکرسکوں۔اورایسا مناسب عمل کروں جسے توپسند فرمائے۔اوراے خد اپنے رحم کے ساتھ تُو بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ۰۰۲۰ مجھے اپنے بزرگ بندوں میں داخل کر۔حلّ لُغَات۔لَایَحْطِمَنَّکُمْ۔لَا یَحْطِمَنَّکُمْ حَطَمَ یَحْطِمُ سے مضارع منفی کاصیغہ ہے اور حَطَمَہٗ کے معنے ہیں کَسَرَہٗ کسی چیز کوتوڑدیا (اقرب)پس لَایَحْطِمَنَّکُمْ کے معنے ہیں ایسانہ ہوکہ وہ تم کو توڑ دیں۔اَوْزِعْنِیْ۔اَوْزِعْنِیْ اَوْزَعَ سے امر کاصیغہ ہے اوراَوْزَعَ اللّٰہُ فُلَاناً کے معنے ہیں اَلْھَمَہُ الشُّکْرَ خدا نے اسے شکر کی توفیق دی۔(مفردات ) پس اَوْزِعْنِیْ کے معنے ہوں گے مجھے شکر کی توفیق عطاکر۔تفسیر۔فرماتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام اپنا لشکر لے کر روانہ ہوئے توچلتے چلتے ان کاوادی النمل میں سے گذرہوا(جس کے ایک معنے چیونٹیوں کی وادی کے بھی ہیں)اس لشکر جرار کودیکھ کرایک نملہ نے کہا۔