تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 63
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مجھے پانچ ایسی خصوصیتیں عطا کی گئی ہیں جو پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ان میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثَ اِلیٰ قَوْمِہٖ خَاصَّۃً کہ پہلے ہر نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجاجاتاتھا وَبُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ عَامَّۃً (بخاری کتاب الصلوۃ باب قول النبی جعلت لی الارض مسجدا و طھورا) مگر میں روئے زمین کے تمام آدمیوں کی طرف بھیجاگیاہوں۔یہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قطعی طور پر بیان فرماتے ہیں کہ انبیائے سابقین میں سے ایک نبی بھی ایسانہیں جواپنی قوم کے سواکسی اور قوم کی طرف مبعوث ہواہو۔لیکن مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جنّوں اورطیور اور چنونٹیوں کی طرف بھی بھیجے گئے تھے۔اگر واقعہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام جنّوں اورطیور کی طرف مبعوث ہوئے تھے تووہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نعوذ بااللہ درجہ میں بڑھ گئے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم توصرف انسانوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔پھر اگر یہ جنّ غیر ازا نسان ہیں تووہ اللہ تعالیٰ کے مخاطب کیونکر ہوگئے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِاسْتَکْثَرْتُمْ مِنَ الْاِنْسِ(الانعام :۱۲۹) یعنی جب قیامت کے دن سب لوگ جمع ہوں گے توہم جنّوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہیں گے اے جنّوں کے گروہ!تم نے اکثر حصئہ انسان کو اپنے قابو میں کیا ہواتھا ہم توجنّوں کو تلاش کرتے کرتے تھک گئے مگر قرآن یہ کہتاہے کہ جنّوں نے اکثر وںکو قابو کیا ہواہے۔حالانکہ ہم تلاش کرتے ہیں تووہ ملتے نہیں۔لوگ وظیفے پڑھتے ہیں چلّہ کشیاں کرتے ہیں اورجب ان کا دماغ خراب ہو جاتا ہے اورخشکی سے کان بجنے لگتے ہیں تو کہتے ہیں جنّ آگیا۔حالانکہ اس وقت جنّ نہیں آتا بلکہ اس وقت وہ خود دنیا سے کھوئے جاتے اور پاگل ہوجاتے ہیں۔ترو تازہ دماغ کے ہوتے ہوئے جنّ کبھی انسان کے پاس نہیں آتے۔غرض جنّوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قَدِاسْتَکْثَرْتُمْ مِنَ الْاِنْسِ تم نے انسانوں سے بہت سے فائدے اٹھائے ہیں۔اوروہ جو انسان ہیں وہ بھی کہیں گے کہ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَابِبَعْضٍ ہم میں سے بعض نے بعض سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔اب اپنے اپنے محلہ اور گائوں میں پھر کر لوگوں سے دریافت کرلو کہ کیا پچاس یا اکاون فیصدی لو گ جنّوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں ؟ سومیں سے ایک بھی ایسا شخص نہیں ملے گا جو یہ کہتاہوکہ میں جنّوں سے فائدہ اٹھاتاہوں اور میرے ان سے تعلقات ہیں۔جس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ جنّ سے مراد انسانوں کے علاوہ کوئی اورمخلوق نہیں بلکہ انسانوں میںسے ہی بعض جنّ مراد ہیں۔اورانسانی جنّوں کی دوستیاں بڑی کثرت سے نظرآتی ہیں۔پھر اس سے بڑھ کر ایک اَور دلیل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِکُمْ رُسُلٌ