تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 64
مِّنْکُمْ (الفتح :۹،۱۰)۔اے جنّوں اورانسانوںکے گروہ جو ہمارے سامنے کھڑے ہو۔بتائو کیا تمہارے پاس ایسے رسول نہیں آئے جو تمہیں میںسے تھے۔اب بتائو جب خدا تعالیٰ کہتاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض جنّ بھی ایمان لائے او ردوسری طرف یہ فرماتا ہے کہ ہمار ارسول بھی انہیں میں سے تھا توکیا اس سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ و ہ جنّ بھی انسان ہی تھے کوئی غیر از انسان وجود نہیں تھے۔پھر یہیں تک بات ختم نہیں کی بلکہ فرمایا وَیُنْذِرُوْنَکُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا۔وہ تمہیں انذار بھی کرتے تھے اورقیامت کے دن سے ڈراتے تھے۔گویا حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت سلیمانؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنوںکو ڈرایابھی کرتے تھے۔اورانہیں یوم آخرت اور اللہ تعالیٰ کا خو ف دلایاکرتے تھے جس سے صاف ثابت ہوتاہے کہ یہ جنّ جنّ الانس ہی تھے کوئی اَور مخلوق نہیں تھے۔جس طرح شیاطین الانس ہوتے ہیں اسی طر ح جن الانس بھی ہوتے ہیں۔اب ایک اور موٹی مثال سنو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا۔لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ(الفتح :۹،۱۰)کہ ہم نے اس رسول کو اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم ایمان لائو اوراس کی مدد کرو۔اب جبکہ جنّ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لائے تھے توکیا کوئی ثابت کرسکتاہے کہ ان جنّوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی مدد کی ہو۔ایک معمولی ملّاکے لئے تووہ انگوروں کے خوشے لا سکتے ہیں۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وہ روٹی کا ایک ٹکڑابھی نہ لائے اورآپ کو بسا اوقات فاقے کرنے پڑے ایک دفعہ آپ کے چہرہ پر ضعف کے آثار دیکھ کرصحابہؓ نے سمجھا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔چنانچہ ایک صحابیؓ نے بکری ذبح کی اورآپ کو اوربعض اَورصحابہؓ کوکھاناکھلایا۔مگرایسے مواقع میں سے ایک موقع پر بھی توجنوں نے مدد نہیںکی۔میں سمجھتاہوں وہ بڑے ہی بے شرم جنّ تھے کہ وہ آجکل کے ملنٹوں کو توسیب اورانگور لاکرکھلاتے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جن پر وہ ایمان لائے تھے انہوں نے کبھی ایک جَوکی روٹی بھی نہ دی۔پھر وہ مومن کس طرح ہوگئے۔وہ توپکے کافر تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال ہی بالکل غلط ہے کہ جنّ کو ئی ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے نرالی ہے۔وہ جنّ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے وہ بھی انسان ہی تھے اورجس طرح اَورلوگوں نے آپ کی مدد کی وہ بھی مددکرتے رہے۔اگر کوئی نرالی مخلوق مانی جائے توپھر اس سوال کاحل کرنا ان لوگوں کے ذمہ ہوگا جوجنّات کے قائل ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ انہوںنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی مدد نہ کی۔حالانکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاچکے تھے اور انہیں یہ حکم دیا گیاتھاکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں۔پھر اس سے بڑھ کر ایک اَوردلیل ہے اللہ تعالیٰ سورئہ احزاب میں بطورقاعد ہ کلیّہ کے فرماتا ہے۔اِنَّا عَرَضْنَا