تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 62
صورت میں قرآن کریم کی دوآیتیں باہم ٹکراجائیں گی اور اس طرح قرآن کریم میں اختلاف پیداہوجائے گا۔پس ہمیں دیکھناچاہیے کہ اس کواستعارہ تسلیم نہ کرنے سے قرآن کریم میں اختلاف پیدا ہوتاہے یااستعارہ تسلیم کرکے اختلاف پیدا ہوتاہے۔استعارہ کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جولوگ اسے استعارہ نہیں سمجھتے وہ کتہے ہیں کہ یہ ایسا ہی لفظ ہے جیسے شیطان کا لفظ آتاہے۔جس طرح شیطان سے مراد ایک ایسی مخلوق ہے جوانسانوں سے علیحدہ ہے۔اسی طرح جنّ بھی ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے الگ ہے حالانکہ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ میں مفسرین بالاتفاق کہتے ہیں کہ اس جگہ شیاطین سے مراد یہود اوران کے بڑے بڑے سردار ہیں۔پس اگرانسان شیطان بن سکتاہے توانسان جنّ کیوں نہیں بن سکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا(الانعام :۱۱۳) کہ ہم نے ہرنبی کے دشمن بنائے ہیں شیطان آدمیوں میںسے بھی اورجنّوں میں سے بھی جو لوگوں کومخالفت پراکساتے اور انہیں نبی او راس کی جماعت کے خلاف برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بتادیا ہے کہ انسان بھی شیطان ہوتے ہیں۔پس اگرشیاطین الانس ہوسکتے ہیں توجن الانس کیوں نہیں ہوسکتے۔یعنی جس طرح انسانوں میں سے شیطان کہلانے والے پیداہوسکتے ہیں اسی طرح ان میں جنّ کہلانے والے بھی پیداہوسکتے ہیں۔بہرحال قرآن کریم سے ہمیں پتہ لگ گیا کہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہی جنّ نہیں تھے بلکہ حضرت موسیٰ ؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی جنّ ایمان لائے تھے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کن کی طرف ہوئی تھی۔اللہ تعالیٰ سورئہ نساء میں اس کے متعلق فرماتا ہے وَاَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا (النساء :۸۰) ہم نے تجھے تمام آدمیوں کے لئے رسول بنا کربھیجا ہے۔اب اللہ تعالیٰ ا س آیت میں صاف طور پر فرماتا ہے کہ ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام آدمیوں کی طرف رسول بنا کربھیجا حالانکہ اگرآدمیوں کے علاوہ کوئی اورنرالی مخلوق جسے جنّ کہتے ہیں آپ پر ایمان لائی تھی تویہ کہنا چاہیے تھا کہ اَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ وَالجِنِّ رَسُوْلًا مگر وہ یہ نہیں فرماتا بلکہ فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے آدمیوں کے لئے رسول بنا کربھیجا۔توجب آدمیوں کی طرف ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعو ث کئے گئے تھے توصاف پتہ لگ گیا کہ جہاں یہ ذکر ہے کہ جنّ آپ پر ایمان لائے وہاں ان سے جنّ الانس ہی مراد ہیں نہ کہ کو ئی اورنرالی مخلوق جس کا نقشہ عام لوگوں کے دماغوں میں ہے۔اسی طرح ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت جابر بن عبداللہ ہیں۔