تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 61
قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِيْنَ۔قَالُوْا يٰقَوْمَنَاۤ اِنَّا سَمِعْنَا كِتٰبًا اُنْزِلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ يَهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ وَ اِلٰى طَرِيْقٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔يٰقَوْمَنَاۤ اَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَ اٰمِنُوْا بِهٖ يَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُجِرْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۔(الاحقاف :۳۰ تا ۳۲)فرماتا ہے اس وقت کو بھی یاد کرو جبکہ ہم جنوں میں سے کچھ لوگوں کو تیری طرف لائے جوقرآن سننے کی خواہش رکھتے تھے۔جب وہ تیری مجلس میں پہنچے توکہنے لگے۔چپ کرو۔تاکہ اس کی آواز ہمارے کانوں میں اچھی طرح پڑے۔جب قرآن کریم کی تلاوت ختم ہوگئی تووہ اپنی قوم کی طرف واپس چلے گئے اور کہنے لگے۔اے ہماری قوم ہم نے ایک کتاب کی تلاوت سنی ہے۔جو موسیٰ ؑ کے بعد اتاری گئی ہے اورجوکتابیں اس سے پہلے اتری ہیں ان سب کی تصدیق کرتی ہے اورحق کی طرف بلاتی او رسیدھا راستہ دکھاتی ہے۔اے قوم۔اللہ تعالیٰ کے منادی کی آواز کوسنواور اسے قبول کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں دردناک عذاب سے بچائے گا۔پس اس سے معلو م ہوتاہے کہ یہ جنّ تورات پر۔حضرت موسیٰ ؑ پر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پربھی ایمان لائے تھے۔پس سلیمانؑ ہی ایک ایسے نبی نہیں جن پر جنّ ایمان لائے۔بلکہ موسیٰ ؑ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی قرآن کریم سے ثابت ہے کہ جنّات ان پر ایمان لائے۔مگرافسوس ہے کہ مفسرین حضرت سلیمان ؑ کے جنوں کے متعلق توعجیب عجیب قصے سناتے ہیں۔کہتے ہیں حضرت سلیمان علیہ السلام قالین پر بیٹھ جاتے اور چار جنّوں کو چا ر گوشے پکڑوادیتے اوروہ انہیں اُڑاکر آسمانوں کی سیرکراتے۔مگررسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو جنّ ایمان لائے ان کے متعلق کسی ضعیف سے ضعیف روایت سے بھی یہ ثابت نہیں کرتے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی ایسی مدد کی ہو حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کرسفرکرتے تھے۔آپ کے صحابہؓ کو کئی دفعہ سواریاں نہ ملتیں اوروہ روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اورکہتے کہ ہمارے لئے کسی سواری کاا نتظام فرما دیجئے توہم جا نے کے لئے حاضر ہیں۔کئی دفعہ صحابہؓ نے ننگے پیر لمبے لمبے سفر کئے ہیں۔مگریہ تمام دکھ اور تکلیفیں دیکھنے کے باوجود ان سنگدل جنّوں کا دل نہ پسیجا وہ حضرت سلیمانؑ کے وقت تولشکر کالشکر اٹھا کر دوسری جگہ پہنچا دیتے تھے اوریہاں ان سے اتنا بھی نہ ہواکہ دس بیس مہاجرین کوہی اٹھا کر میدان جنگ میں پہنچادیتے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ جنّ غیر از انسان وجو د ہیںجورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان علیہم السلام پر ایمان لائے (درمنثور)۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان معنوں کوقرآن کریم تسلیم کرتاہے۔اگر یہ ایک استعارہ ہے تویقیناً قرآن کریم نے اس کو اپنی کسی دوسری آیت میں حل کیا ہوگا۔اوراستعارہ تسلیم نہ کرنے کی