تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 54
مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَ اُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ پرندوں کی زبان سکھائی گئی ہےاورہرضروری چیز (یعنی تعلیم) ہم کو دی گئی ہے۔الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ۰۰۱۷ یہ کھلا کھلا فضل ہے۔حلّ لُغَات۔مَنْطِقُ الطَّیْرِ۔مَنْطِقُ الطَّیْرِ، اَلْمَنْطِقُ: اَلْکَلَامُ۔یعنی منطق کے معنے کلام کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کا ذکر فرماتا ہے۔حضرت دائود علیہ السلام کو چونکہ یہودیوں میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خاص بیٹا تسلیم کیا جاتا ہے اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کا ذکر کیاگیاہے اوران دونوں کا یہ قول بیان کیاگیاہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت بخشی ہے یعنی خلافتِ روحانی اورخلافتِ جسمانی کے ذریعہ سے اس نے ہمیں مومنوں کا افسر بنایاہے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ سلیمان ؑ دائود ؑ کاوارث ہوا۔یعنی ان کے انتقال کے بعد ان کا جانشین ہوا۔اس سے ظاہر ہے کہ اگلی آیات میں جہاں جہاں نا کالفظ آیاہے اس سے مراد صرف حضرت سلیمانؑ ہی ہیں اورنا کالفظ شاہی سطوت اورجبروت کے اظہار کے لئے ہے نہ یہ بتانے کے لئے کہ حضرت دائود ؑاس میں شامل ہیں۔کیونکہ آیت کے شروع میںہی بتایاگیاہے کہ حضرت دائود علیہ السلام اس وقت فوت ہوچکے تھے۔پس یہ جو کہاگیاہے کہ اے لوگو ! ہم کو منطق الطیر سکھائی گئی ہے۔اس سے مراد صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ہیں نہ کہ حضرت دائودؑ۔کیونکہ حضرت دائودعلیہ السلام اس سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔مفسرین نے منطق الطیر کی یہ معنے کئے ہیںکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کبوتروں اورتیتروں اورچڑیوں اوربٹیروں وغیرہ کی زبان سکھائی گئی تھی اوروہ ان کی بولی کو اسی طرح سمجھ لیتے تھے جس طرح ایک انسان کی گفتگوکو دوسراانسان سمجھ لیتا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بلبل کودیکھا کہ ایک شاخ پر بیٹھی ہوئی اپنی دُم اورسرہلاکر کچھ بول رہی ہے۔اس کی آواز سن کر آپ نے اپنے اردگرد بیٹھنے والوں سے پوچھا کہ