تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 53

تمام فصلیں تباہ ہو گئیں اور لوگ بھوکے مرنے لگے۔جوؤںکا عذاب بھی نازل کیا۔یعنی اتنی شدید سردی پڑی کہ لوگوں کے لئے غسل کرنا مشکل ہوگیا۔اوران کے بال جوؤں سے بھر گئے۔مینڈکوںکا عذاب بھی نازل کیا۔یعنی اتنی کثرت سے بارشیں ہوئیں کہ جگہ جگہ مینڈک پیداہوگئے۔خون کا عذاب بھی نازل کیا۔جس سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ان کا خون خرا ب ہوگیا اورانہیں کثرت کے ساتھ پھو ڑے وغیرہ نکلنے لگ گئے یاان میں نکسیر کا مرض پھوٹ پڑا۔یابواسیر دموی کے مرض نے آگھیرا۔یا ان میں وہ طاعون پھیل گئی جس میں مریض کے ناک ،مونہہ او رمقعد سے خون جاری ہو جاتا ہے۔اور کبھی جلد کے نیچے جریان خو ن ہوکر تمام جسم پرسیاہ سیاہ داغ پڑ جاتے ہیں۔اورستر اسی فیصدی مریض ہلاک ہوجاتے ہیں۔غرض پے درپے ان کے انتباہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل ہوتے رہے۔مگرفرماتا ہے باوجوداس کے کہ فرعون کی قوم نے وہ نشانات دیکھے جوان کی آنکھیں کھولنے والے تھے پھر بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ توبڑی پُرفریب باتیں ہیں۔یعنی بظاہر تویہ معلوم ہوتاہے کہ یہ نشانات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر اصل میں محض اتفاقات ہیں اورانہوں نے ان نشانات کا انکار کردیا۔حالانکہ ان کے دل سمجھ چکے تھے کہ یہ محض اتفاقات نہیں بلکہ ان کی بداعمالی کی سزاکے طور پر یہ عذاب آرہے ہیں۔ان کا یہ انکار محض ظلم اور تکبر کی وجہ سے تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ صداقت کا اپنی زبان سے اقرار کرکے اپنی بڑائی کو ضعف پہنچائیں۔مگر دیکھ لو کہ پھر ان مفسد لوگوںکا انجام کیساخطرناک ہو ا۔جب فرعون اور اس کے ساتھی ہلاک ہوگئے توآج تیرے مخالفوں کا انجام کس طرح اچھا ہو سکتا ہے جواسی رستہ پر چل رہے ہیں جس پر فرعون اوراس کے ساتھی چلے اور انہی کی طرح اللہ تعالیٰ کے نشانات کا انکار کرتے چلے جارہے ہیں۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ اورہم نے دائود اورسلیما ن کو علم عطا کیا۔اوردونوں نے کہا اللہ ہی سب تعریف کا مالک ہے الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۱۶ جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا اورسلیمان دائود کا وارث بنا۔اوراس نے کہا اے لوگو ! ہمیں