تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 55

تم جانتے ہو یہ بلبل کیا کہہ رہی ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ خدااوراس کارسول ہی بہتر جانتے ہیں ہمیں کیا علم ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا۔یہ کہہ رہی ہے کہ دنیا کے سرمیں خاک پڑے۔میں نے توآج صرف آدھی کھجور کھائی ہے۔پھر فاختہ بولی۔توآپ نے فرمایا۔یہ کہتی ہے کاش یہ سب مخلوق پیداہی نہ ہوتی۔اسی طرح مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ فرمایاکرتے تھے کہ کبوترکہتاہے۔مرنے کے واسطے اپنی اولادیں پیداکرو۔اورویران ہونے کے لئے مکانات بنائو۔اورموؔر کہتاہے کہ جوکچھ تُوکرے گا اس کابدلہ پائے گا۔اورہد ہد کہتاہے کہ جو دوسرے پر رحم کرے گا خدااس پر رحم کرے گا۔اورابابیل کہتی ہے کہ نیک اعمال کو آگے بھیجو تاکہ تم انہیں خداکے پاس پائو اورکبوتر کہتاہے کہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاْعْلٰی مِلْءُسَمَآئِہٖ وَ اَرْضِہٖ۔اورقطا ۃ کہتاہے کہ جو خاموشی اختیارکرے گاسلامت رہے گا۔اورطوطاکہتاہے کہ افسوس اس پر جس کامقصود اورمطلوب دنیا ہے۔اور مرغا کہتاہے کہ اے غافلو اللہ کو یاد کرو۔اورمینڈک کہتاہے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْقُدُّوْسِ۔اورچڑیاکہتی ہے اے گنہگارو استغفار کرو۔اورچیل کہتی ہے کہ کُلّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ یعنی خداکے سوا ہرچیز ہلاک ہونے والی ہے۔غرض انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرندوں کی بولی کو خوب سمجھتے تھے گو انہوں نے پرندوں میں مینڈک وغیرہ کوبھی شامل کرلیا ہے۔مگریہ محض استعارے اورمجاز کو نہ سمجھنے کانتیجہ ہے اورایسی ہی بات ہے جیسے قرآن کریم میں تواللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ کُلُوْاوَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ(البقرۃ:۱۸۸) یعنی رمضان کے ایام میں سحری کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظرنہ آنے لگے۔مگر پنجاب میں بہت سے زمینداررمضان کی راتوں میں سفید اورسیا ہ تاگا اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور چونکہ تاگااچھی روشنی میں ہی نظر آتاہے اس لئے و ہ اس وقت تک خوب کھاتے پیتے رہتے ہیں۔جب تک انہیں سیاہ اور سفید تاگا الگ الگ نظر نہ آنے لگے۔اسی طرح تشبیہ اوراستعارہ کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا ذکر آجائے توبعض لوگ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ خدا کاہاتھ بھی نعوذ باللہ اسی طرح گوشت پوست کا ہے جس طرح ہماراہے۔اوراگر انہیں کہا جائے کہ ہاتھ سے مراد خدا تعالیٰ کی طاقت ہے تووہ کہیںگے کہ تم تاویلیں کرتے ہو۔جب خدا نے ہاتھ کالفظ استعمال کیا ہے تو تمہاراکیا حق ہے کہ تم اس کی تاویل کرو۔یا خدا تعالیٰ کے متعلق اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے الفاظ پڑھ لیں توجب تک وہ خدا تعالیٰ کو ایک سنگ مرمر کے تخت پر بیٹھا ہو اتسلیم نہ کریں انہیں چین ہی نہیں آئے گا۔حالانکہ دنیا کی ہرزبان میں تشبیہہ اور استعارہ کا استعمال موجود ہے۔ہمارے ملک میں محاور ہ ہے کہ ’’ آنکھ بیٹھ گئی ‘‘ مگر کوئی نہیں کہتا کہ آنکھ کی ٹانگیں تھیں یاوہ بیٹھی ہے توکس