تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 52
مگر آخر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعائوں اور تربیت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اندرایساتغیر پیدا کیا کہ انہوں نے اپنے آپ کو بلادریغ قربانیوں کی آگ میں جھونک دیااور آخر کنعان کے دروازے ان کے لئے کھل گئے۔اورغلام کہلانےوالے دنیا کے بادشاہ بن گئے۔پھر نہ صرف خدا تعالیٰ نے ان کو دنیوی حکومت عطافرمائی بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کی تعلیم پر چل کر ان میں بڑے بڑے ربّانی اوراحبار بلکہ خدا تعالیٰ کے انبیاء تک پیداہوئے جوچودہ سوسال تک دنیا کے لئے شمع ہدایت کاکام دیتے رہے۔یہ تمام پاکبازوں کا گروہ وَ اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ کی صداقت کاایک عملی ثبوت تھا۔اورپھر یہ تمام مقدسین مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ کے مطابق معصوم او ربے عیب تھے۔بائیبل نویسوں نے اپنی نادانی سے خدا تعالیٰ کے ان انبیاء کو جو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتے رہے قسم قسم کے نارواالزام لگائے ہیں۔کسی کے متعلق کہا ہے کہ اس کا دل غیر معبودوں کی طرف پھر گیا۔کسی کے متعلق کہا ہے کہ اس نے دوسرے کی بیوی اُڑالی اوراس کے خاوند کو مروادیا۔کسی کے متعلق کہا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا۔مگرقرآن کریم ان تمام اتہامات سے ان کو پاک ٹھہراتاہے اور بتاتاہے کہ ہم نے موسیٰ ؑ کو پہلے سے یہ خبردے دی تھی کہ تیری تربیت کے نتیجہ میں ایسے لوگ پیداہوں گے جو نورانیت کا مجسمہ ہوں گے اور ان میں کوئی ایساعیب نہیں ہوگا جو ان کی معصومیت کو داغ دا رکرنےوالاہو۔فرماتا ہے یہ دونوں نشان ان نونشانوں میں سے ہیں جو فرعون او راس کی قوم کے لئے دکھائے جانے والے ہیں۔کیونکہ وہ اطاعت سے نکلنے والی قوم ہے۔ان نونشانات میںسے عصا اورید بیضا ء کے معجزات کا توا س جگہ ذکر ہے اور دومعجزات کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کہ وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُوْنَ(الاعراف :۱۳۱) یعنی ہم نے آل فرعون کو قحط اور بچوں کی ہلاکت کے عذاب میں گرفتار کیا۔تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔باقی پانچ نشانات کا اس آیت میں ذکر آتاہے۔فَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ۔فَاسْتَکْبَرُوْاوَکَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ (الاعراف :۱۳۴) یعنی ہم نے آل فرعون پر کئی قسم کے عذاب بھیجے جن میں طوفان ، ٹڈیوں،جوؤں،مینڈکوں اورخون کاعذاب شامل تھا۔بائیبل کی کتاب ’’خروج‘‘ کے مختلف ابواب میں ان عذابوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔طوفان کا عذاب تو وہی تھا جو بحیرئہ احمر میں ظاہر ہوا۔جب فرعون اور اس کا لشکر اس میں غرق کردیئے گئے لیکن اس کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تائید میں اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر ٹڈیوں کا عذاب بھی نازل کیا۔یعنی اتنے ٹڈی دَل آئے کہ ملک کی