تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 51
گویابائیبل نویسوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ کی سفیدی کو کوڑ ھ کی طرف منسوب کردیاتھا مگر قرآن کریم جو حضرت موسیٰ ؑ کے دوہزارسال کے بعد آیااو ر جس کی مخالفت میں یہودیوں اورعیسائیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔وہ حضرت موسیٰ ؑ کو جویہودیوں اورعیسائیوں کا نبی تھا اس الزام سے پاک ٹھہراتاہے جو خود موسیٰ ؑ کے متبعین نے ان پر لگادیاتھا۔اوران کے ہاتھ کی سفیدی کو کوڑھ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ایک عظیم الشان نشان قراردیتاہے۔وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایاکہ چونکہ تجھ پرجو کلام نازل ہواہے وہ تیری قوم کے لئے ہے اس لئے تُوجا اوراپنی قوم کو اپنے ساتھ چمٹالے۔یعنی ان کواپنے ظل عاطفت میں لے لے۔اوران کی نیک تربیت کر۔اس تربیت کے نتیجہ میں اس قوم میں سے نہایت اعلیٰ درجہ کے لوگ پیداہوں گے۔جن میں کوئی عیب نہیں ہوگا۔وہ دل کے صاف اور خدا تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ اور اس کے مقبول ہو ں گے۔اوردنیا کو اپنے نو ر سے منور کرنے والے ہو ں گے۔لیکن جب وہ تجھ سے الگ ہوگئے۔یعنی تیری روحانی تعلیم کو انہوں نے پس پشت پھینک دیاتووہ زمین کی طرف جھک جائیں گے اورجس طر ح سانپ سفلی زمین کی مٹی کھاتاہے اسی طرح وہ بھی دنیا کے کیڑے بن جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی جو پتھیروں کاکام کرنے والے تھے ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو فتح کو قریب لانے والی ہو۔مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تربیت کے نتیجہ میں انہیں ایسی ہمت او رطاقت بخشی کہ انہوں نے عمالقہ کی قوم پر فتح حاصل کی اور کنعان پر خدا نے انہیں حکمرانی عطافرما دی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا عمالقہ کی قوم پر فتح حاصل کرلینا ایسا ہی تھا جیسے چوہا بلی کو مارلے۔عمالقہ قوم کی شام او ر کنعان پر حکومت تھی۔اورو ہ بڑی بھاری شوکت اورعظمت رکھتی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی اینٹیں پاتھنے والے غلامی کی زندگی بسرکرنے والے اور سیاست سے کلی طور پر نابلد تھے۔مگراللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھاکہ وہ اس جاہل اور ناواقف اورغلامی کی زندگی بسرکرنے والی قوم کوعمالقہ کی زمین کاوارث کردے گا اور یہ سینکڑوں سال تک غلام رہنے والی قوم جس نے کبھی تلوار نہیں چلائی تھی اورہمیشہ غلامی کی زنجیروں میں مقید رہی تھی عمالقہ کی قوم پر جو تلوار کی دھنی تھی اورہرقسم کے سازوسامان اس کے پاس موجود تھے غالب آجائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اورخدا تعالیٰ نے انہیں غلبہ عطافرما دیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب انہوں نے اپنی نادانی سے یہ کہہ دیا کہ اِذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ۔(المائدۃ:۲۵)یعنی تُواور تیراخدادونوں دشمنوں سے لڑتے پھرو۔ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔