تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 50

کرنے والاہوں۔اس لئے انبیاء تو الگ رہے۔ایسے شخص کے لئے بھی ڈرنے کی کوئی حقیقی وجہ نہیں۔وَ اَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ١۫ اورتُو اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال۔و ہ بغیر کسی بیماری کے سفید نکلے گا۔یہ ان نو نشانوں میں سے ہے جو فرعون فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا اوراس کی قوم کی طرف بھیجے جانے والے ہیں وہ اطاعت سے نکل جانے والی قوم ہے۔پس جب ان کے پاس فٰسِقِيْنَ۰۰۱۳فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا ہمارے نشانات جو آنکھیں کھول دینے والے تھے آئے توانہوں نے کہا۔یہ تو ایک کھلا کھلا جادوہے۔اورانہوں سِحْرٌ مُّبِيْنٌۚ۰۰۱۴وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَيْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ نے اصرار سے ظلم اور تکبر کرتے ہوئے ان نشانوں کا انکار کیا حالانکہ ان کے دل ان پر یقین لاچکے تھے۔ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَؒ۰۰۱۵ پس دیکھ کہ فساد کرنے والوں کاانجام کیساہواکرتاہے۔حلّ لُغَات۔اِسْتَیْقَنَتْ۔اِسْتَیْقَنَتْ اِسْتَیْقَنَ سے مؤنث کا صیغہ ہے اور اِسْتَیْقَنَ کے معنے تَیَقَّنَ کے ہیں چنانچہ کہتے ہیں تَیَقَّنَ الْاَمْرَ: عَلِمَہٗ وَتَحَقَّقَہٗ یعنی کسی بات کو یقینی طورپر جان لیا۔(اقرب) تفسیر۔پھر فرمایاکہ اپنے گریبان میں ہاتھ توڈال۔جب تواسے نکالے گاتووہ سفید ہوگا۔مگر کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نشان نمائی کی وجہ سے وہ نورانی اورسفید ہوگا۔مِنْ غَيْرِ سُوْٓءٍ کے الفاظ بائیبل کے اس نارواالزام کو ردّ کررہے ہیں جو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ان الفاظ میں لگایا کہ ’’ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔اورجب اس نے اسے نکال کر دیکھا توا س کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔‘‘ (خروج باب ۴ آیت ۶و۷)