تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 459
جو ش آتا ہے وہ میل میل خشکی پر چڑھ جاتا ہے۔لہریں اُٹھنے لگیں اور پانی کرسی کے گرد اونچا ہونے لگا کینیوٹؔ ظاہر میں غصہ کی شکل بنا کر لہروں کو حکم دیتا کہ پیچھے ہٹ جائو۔مگر پانی بڑھتا چلا گیا۔یہاں تک کہ بادشاہ کے ساتھیوں کو جان کا خطرہ پید ا ہوگیا۔اس وقت بادشاہ اٹھ کر خشکی کی طرف آیا اور درباریوں سے کہا کہ دیکھا تم کس قدر جھوٹ کہتے تھے۔جس طرح کینیوٹؔ بادشاہ کے حکم سے باوجود اس کے اقتدار کے سمندر پیچھے نہیں ہٹتا تھا اسی طرح یورپ کو ایشیائی طریق کا مسلمان بنانا مشکل نظر آئے گا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پید ا کیا ہے اور کس نے سورج اور چاند اور ستاروں کو ایسی طرز پر کام میں لگارکھا ہے کہ لاکھوں سال کا زمانہ گزرنے کے باوجود وہ برابراپنا کام کرتے چلےجارہے ہیں اور آسمانی اور زمینی نظام میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔وہ اس کے جواب میں سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی ایسا کیا ہے۔پھر ان سے کہو کہ جس خدا نے بغیر ظاہری سامانوں کے بڑے بڑے وزنی سیارے اور ستارے آسمان میں قائم کر رکھے ہیں وہ خد ا جب کسی قوم کو غالب کرنا چاہے تو اسے مادی سامانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔وہ ایسے باریک اور غیر مرئی سامانوں سے کام لیتا ہے جن کو انسانی آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی اور غالب مغلوب اور مفتوح فاتح بن جاتے ہیں۔اسلام کی بھی اس وقت یہی حالت ہے اس کی چھتیں ستونوں سے خالی دکھائی دیتی ہیں اور اس کی زمین بنجر اور سنگلاخ نظرآتی ہے۔لیکن زمین وآسما ن کی تخلیق پر غور کرنے والا دماغ اس نکتہ کو فراموش نہیں کرسکتا۔کہ تمام طاقت خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور جب وہ کسی کو غالب کرنا چاہے تو بغیر مادی سامانوںکے بھی غالب کردیتا ہے۔دیکھو ٹائن بیؔ جو اس وقت سب سے بڑا مؤرخ ماناجاتا ہے اور قریباً گبن ؔ کی پوزیشن ا س کو ملنے لگ گئی ہے بلکہ بعض تو اسے گبن سے بھی بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسا مؤرخ کبھی نہیں گذرا۔اس نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ دنیا میں جو تغیر آیا کرتے ہیں وہ اخلاقی اقدار کی وجہ سے آتے ہیں۔جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کوئی بڑی طاقت ہوتو اس کی وجہ سے تغیرات پیدا ہوتے ہیں یہ غلط بات ہے۔پھر اس نے لکھاہے کہ عیسائیت کے ساتھ اب اسلام کی ٹکر ہوگی۔جس کے سامان نظرآرہے ہیں اور مسلمانوں میں سے احمدیوں میں مجھے آئندہ لڑائی والی جھلک نظر آرہی ہے۔اس ٹکر کے بعد یہ فیصلہ ہوگا کہ آئندہ تہذیب کی بنیاد اگلی صدیوں میں اسلام پر قائم ہوگی یا عیسائیت پر قائم ہوگی۔پھر اس نے ایک مثال دی ہے کہتا ہے ہم تو گھوڑ دوڑ کے شوقین ہیں۔ہمارے ہاں عام گھوڑ دوڑ ہوتی ہے۔ہم گھوڑ دوڑ والے جانتے ہیں کہ بسا اوقات جو گھوڑا سب سے پیچھے سمجھا جاتا ہے وہ آگے نکل جاتا ہے۔پس یہ مت خیال کرو کہ احمدی اس وقت کمزور ہیں۔کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ پچھلا گھوڑا آگے نکل جاتا ہے۔اسی طرح اب تم کو یہ کمزور نظرآتے ہیں لیکن مجھے ان میں وہ ترقی کا بیج نظر