تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 458
وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ اوراگرتُو ان لوگوں سے پوچھے کہ آسمانوں او رزمین کو کس نے پیدا کیاہے؟ اورسورج اور چاند کو (بغیر مزدوری کے) الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ۰۰۶۲ کس نے انسانوں کی خدمت میں لگایا ہوا ہے ؟تو وہ کہیں گے اللہ نے۔(پھر جب وہ یہ بات جانتے ہیں )تو کس طرف کو بہکے جارہے ہیں۔تفسیر۔اشاعتِ اسلام کے راستہ میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پھر ان مذہبی مباحثات کی طرف لوٹتا ہے جن کا ذکر گذشتہ رکوع سے شروع ہے اور فرماتا ہے کہ جب تم باہر نکلو گے اور دنیا میں اسلام کی اشاعت کے لئے اپنے وطنوں کی بھی قربانی کرو گے۔اپنی جانوں کی بھی قربانی کرو گے۔اپنے مالوں کی بھی قربانی کرو گے اور صبرواستقامت اور توکل علی اللہ کا نمونہ دکھاتے ہوئے اسلام اور قرآن کی تبلیغ کرو گے تو تمہیں سب سے بڑا مقابلہ ان اقوام سے پیش آئے گا جو کسی نہ کسی رنگ میں خدا تعالیٰ کی توحید کی منکر ہیں۔اس لئے تمہیں چاہیے کہ جب ا ن سے مذہبی گفتگو شروع ہوتو ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور سورج اور چاند کو کس نے بے مزد خدمت پر کس نے لگا رکھا ہے ؟ وہ اس کے جواب میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ تمام کارخانہء عالم اللہ تعالیٰ نے ہی پید اکیا ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے۔پھر ان سے کہو کہ جب خدا تعالیٰ نے اتنا بڑا کارخانہ پید اکردیا ہے۔اور اسی کے ہاتھ میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے تو تم خدا کو چھوڑ کر اور معبود وں کی طرف کیو ں بہکے جارہے ہو۔پھر وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ فرمایا کہ جب تم توحید کی مخالف اقوام کے سامنے اسلام اور قرآن کا پیغام پیش کروگے تو وہ اپنی طاقت اور سامانوں کی فراوانی کی وجہ سے تمہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور کہیں گے تم کس طرح غالب آسکتے ہو تم تو کینیوٹؔ کی طرح سمندر کو پیچھے دھکیلنے کے خواب دیکھ رہے ہو۔کینیوٹؔ ایک انگریز بادشاہ تھا جس کو خدا تعالیٰ نے بہت اقبال دیا تھا۔ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا تھا کہ اس کے درباریوں نے خوشامد کے طور پر کہنا شروع کیا کہ آپ کی حکومت تو زمین اور سمندر بھی مانتے ہیں وہ دانا بادشاہ تھا۔اس نے اپنی کرسی سمندر کے کنارے بچھائی اور وہاں بیٹھ گیا۔وہ وقت مدکا تھا جس وقت سمندر میں