تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 457

اس کے دل میں غالب آجاتی ہے تووہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت سے محروم ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم اشرف المخلو ق ہوکر زمین و آسمان کے خدا پر کتنی بدظنی کررہے ہو۔تم زمین کے چرندوں اورجنگل کے درندوں اورہواکے پرندوںکو دیکھو۔کیاتم ان کے لئے رزق مہیا کرتے ہو یاخداان کو رزق بہم پہنچا رہا ہے۔اگرتم کائنات عالم کے اربوں ارب کیڑے مکوڑوں اورجانداروں کے سامان معیشت پر ہی غور کرو توتمہاری عقل دنگ رہ جائے اور تم پر علم و معرفت کاایک نیا باب کھل جائے۔دنیاعلمی لحاظ سے بڑی بھاری ترقی کرچکی ہے مگرابھی تک وہ یہ نہیںمعلوم کرسکی کہ اِن اَن گنت جانوروں کے لئے کس طرح غذامہیاہوتی ہے۔ایک موٹی تقسیم تو یہی ہے کہ کھیتی میں دانے پیدا ہوتے ہیں توساتھ ہی اللہ تعالیٰ جانوروں کے لئے بھوسہ بھی پیداکردیتاہے۔اسی طرح کانٹے دار جھاڑیاںاوردرخت اونٹوںوغیرہ کی غذاہیں تونجاست بھیڑوں کے کام آجاتی ہے۔مگرکروڑوں کروڑ جانور جو سمندروں اور دریائوں میں رہتے ہیں یاغاروں میں بستے ہیں یادرختوں کی چوٹیوں پر بسیراکرتے ہیں یاہوائوں میں اڑتے ہیں یاخون کے ایک ایک قطرہ میں خوردبین سے دکھائی دیتے ہیں ان سب کو کون رزق دے رہاہے۔کون سی سوسائٹی یاانجمن یاحکومت ہے جو ان کا بجٹ تیار کرتی اورانہیں تنخواہیں تقسیم کرتی ہے۔یہ خداہی ہے جو اتنابڑاکارخانہ چلارہاہے اوران اربوں ارب جانوروںکو رزق مہیاکر رہاہے۔پھرانسان کیسانادان ہے کہ جب اسے کہاجاتاہے کہ آئو اورخدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کروتوو ہ کہتاہے میں آئوں توسہی مگرمیں ڈرتاہوں کہ اگرمیں آگیا توکھائوں گاکہاںسے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں کائنات عالم کی اتنی بڑی مخلوق کو رزق پہنچارہاہوں۔تواگرتم میری آواز پر لبیک کہتے ہوئے آگے آئے توکیا میں تمہیں بھوکامرنے دوں گا۔فرمایا۔اس بدظنی کواپنے دل سے نکال دو۔تمہاراخداسمیع اورعلیم ہے۔اگرتم سچے دل سے خدا تعالیٰ کو پکارو گے تواس وجہ سے کہ وہ تمہارے حالات کوجانتاہے وہ تمہاری دعائوں کو قبول کرے گا اور تمہیں ہرقسم کی مشکلات سے نجات دے گا۔پس ان وساوس میں اپنی زندگی مت بسر کرو۔بلکہ نڈر او ربہادر بن کر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے آگے بڑھو۔