تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 417

ساتھ بدی کرتاہے توو ہ اس سے بڑھ کراس کے ساتھ براسلوک کرتاہے اوریہ ادنیٰ درجہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہرمومن کوحاصل ہوناچاہیے۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نماز کے اعلیٰ درجہ کی طرف مومنوں کوتوجہ دلاتے ہیں اورفرماتے ہیں اصل مقام یہ ہے کہ تُو نماز پڑھتے وقت یہ سمجھے کہ میں خدا کو دیکھ رہاہوں۔یہاں بھی کَاَنَّکَ تَرَاہُ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اب اس کے بھی یہ معنے نہیں ہوسکتے کہ تُوفرض کرلے کہ میں خدا کودیکھ رہاہوں۔کیونکہ یہ جھوٹ بن جاتاہے۔اول توجو چیز ہے ہی نہیں اس کے متعلق کسی نے سمجھنا ہی کیا ہے۔اگر کوئی ایساکمزور دل ہو جو اپنے دل پر بارباراثر ڈالنے کی کوشش کرے کہ میں خدا کو دیکھ رہاہوں تواس کافائدہ کیاہو سکتا ہے۔پس کَاَنَّکَ تَرَاہُ کے یہ معنے تونہیں ہوسکتے کہ تُو یہ فرض کرلے کہ تُوخدا کودیکھ رہاہے۔درحقیقت اس کے معنے یہ ہیں کہ پہلامقام حاصل ہوجانے کے بعد مومن ایسے مقام پر پہنچ جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات کی حقیقت اس پر واضح ہوجاتی ہے اوروہ خدا تعالیٰ کے سلوک اور اس کے رحم و کرم کواپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لیتا ہے۔پس نماز کااعلیٰ مقام یہ ہے کہ انسان جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑاہو تواسے یہ یقین کامل ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کودیکھ رہاہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ جیسے ہندوکہتے ہیں کہ انسان عبادت کے وقت یہ سوچنا شروع کردے کہ ایک بت جو اس کے سامنے ہے وہ خداہے اسی طرح وہ مسلمان بھی یہ سوچنا شروع کردے۔کیونکہ اسلام وہم نہیں سکھاتا۔اسلام کوئی جھوٹاتصور انسانی ذہن میں پیدا نہیں کرتا۔اسلام یہ سکھاتاہے کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہوتو تمہیں اس امر کی معرفت حاصل ہو کہ تم سے نیک سلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ نیک سلوک کرتاہے اور تم سے براسلوک کرنے والے سے خدا تعالیٰ براسلوک کرتاہے اگر تم کو بھی یہ نظر آجائے اور تم کو بھی یہ محسوس ہونے لگ جائے کہ جس نے تمہارے ساتھ نیک سلوک کیاتھا اس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے نیک سلوک کیا اور جس نے تمہارے ساتھ براسلوک کیاتھااس کے ساتھ خدا تعالیٰ نے براسلوک کیا تواس کانتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری محبتِ الٰہی کامل ہوجائے گی اور تمہاری نماز اپنی ذات میں مکمل ہوجائے گی۔غر ض اسلام واہمہ کی تعلیم نہیں دیتا۔اسلام ہمیں یقین اور معرفت کے مقام پرپہنچاناچاہتاہے۔اسلام ہم سے تقاضاکرتاہے کہ ہم اپنی نمازوں کواس طرح سنوار کراداکریں اورانہیں اتنا اچھااوراعلیٰ درجہ کابنائیں کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ ہم سے اتناتعلق رکھے کہ ہمارے ساتھ حسن سلوک کرنے والے سے وہ حسن سلوک کرے اور ہمارے ساتھ براسلوک کرنے والے سے وہ براسلوک کرے اوردوسری طرف ہماری اپنی آنکھیں اتنی روشن ہوں اورہمارے دل میں اتنا نور بھراہو کہ ہم کو خود بھی نظر آجائے کہ خدا تعالیٰ ہماری تائید میں اپنے نشانات ظاہر کرتاہے۔جب یہ مقام کسی کوحاصل ہوجائے تووہ ہرقسم کے شکوک و شبہات سے بالاہوجاتا ہے۔