تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 416
رہاہے۔بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ نماز کاادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان اس یقین کامل پرقائم ہوجائے کہ خدااسے دیکھ رہاہے۔یہاں دیکھنے کے عام معنے توہونہیں سکتے۔کیونکہ وہ کافر کوبھی دیکھ رہاہے اورمومن کو بھی دیکھ رہاہے عیسائی کو بھی دیکھ رہاہے اورہندوکوبھی دیکھ رہا ہے۔نماز پڑھنے والے کو بھی دیکھ رہاہے اور نماز نہ پڑھنے والے کو بھی دیکھ رہاہے۔ایسی صورت میں ایک نماز پڑھنے والابھی اگر یہ سمجھ لیتا ہے کہ خدااسے دیکھ رہاہے تواس میں اسے کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہوسکتی۔کیونکہ خداجس طرح اسے دیکھ رہاہے اسی طرح ایک کافراو رمنافق کو بھی دیکھ رہا ہے۔خصوصیت اسے تبھی حاصل ہوسکتی ہے جب دیکھنے والے کے بھی اَورمعنے لئے جائیں او روہ معنے حفاظت اور مددکرنے کے لئے اس کی طرف متوجہ ہونے کے ہیں۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی نسبت فرماتا ہے کہ فَاِنَّکَ بِاَعْیُنِنَاوَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ( طور:۴۹)یعنی تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔پس چاہیے کہ جب تُو نماز کے لئے کھڑاہو توہماری تسبیح کیاکر۔اب آنکھوں کے سامنے ہونے کایہ مطلب تونہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کی آنکھوں کے سامنے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا دشمن خدا تعالیٰ کی آنکھوں کے سامنے نہیں تھا۔بلکہ اس کامطلب یہی ہے کہ تُوایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ اب ہم تیر اخاص خیال رکھتے ہیں کوئی تجھ کو چھیڑ نہیں سکتا۔کوئی تجھ پر حملہ نہیں کرسکتا۔کوئی تجھے ذلیل اوررسوانہیں کرسکتا۔جیسے حفاظت کے لئے اگر کسی کی ڈیوٹی مقررہو تووہ حملہ آورکودیکھ کرچپ نہیں رہ سکتا۔اسی طرح ہماراتیرے ساتھ ایساتعلق قائم ہوچکا ہے کہ اب ہم تجھ پرحملہ ہوتے دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتے۔دنیا میں بھی انسان جب کسی معاملہ میں دخل دینا مناسب نہیں سمجھتا توآنکھیں پھیرلیتا ہے۔اورجب دخل دیناچاہتاہے تو کہتا ہے۔’’ میں دیکھ رہاہوں۔‘‘بہرحال جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ نماز کایہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدااسے دیکھ رہاہے تو اس کے معنے یہی ہیں کہ اسے یہ یقین کامل حاصل ہوناچاہیے کہ میری نماز اتنی درست ہے کہ اب میرے ساتھ کوئی شخص ایساسلوک نہیں کرسکتاجسے خدانظر انداز کردے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کواللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایاکہ اِنِّیْ مُعِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِعَانَتَکَ وَاِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ کہ جوشخص تیری مدد کاارادہ کرے گا میں اس کی مدد کروں گا۔اورجوشخص تیری اہانت کاارادہ کرے گا میں اس کی اہانت کروں گا۔گویااس مقام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اوربدی دونوں کاردّعمل ظاہرہو جاتا ہے اوروہ اپنے بند ے سے نیکی کرنے والے کی نیکی کوضائع نہیں ہونے دیتا۔اورنہ اپنے بندے کے ساتھ برائی کرنے والے کی برائی کو نظر انداز کرتاہے۔اگر کوئی اس سے نیکی کرتاہے تووہ اس سے بڑھ کراس کےساتھ نیک سلوک کرتاہے اوراگر کوئی اس کے