تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 418

اللہ تعالیٰ کے روشن نشانات اس کی تائید میں ظاہر ہونے لگتے ہیں اوروہ اس یقین سے لبریز ہو جاتا ہے کہ خدااسے ضائع نہیں کرے گا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ رہاہوتاہے وہ اس کے حسن سلوک اور انعامات کامشاہدہ کررہاہوتاہے اوروہ اس یقین پر مضبوطی سے قائم ہوتاہے کہ دنیا اسے چھو ڑدے مگر خدااسے نہیں چھوڑے گا۔نادان اس کونہیں سمجھ سکتا مگروہ جس نے خدا تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیاہو وہ ایسی مضبوط چٹان پر قائم ہوتاہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتی۔افسوس ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں میں ایک بہت بڑاطبقہ ایساہے جو نماز نہیں پڑھتااس لئے نہیں کہ وہ نماز کاقائل نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ سمجھتاہے کہ اللہ تعالیٰ رحمٰن اوررحیم ہے اگرہم نماز نہیں پڑھیں گے تووہ ہمیں بخش دے گا۔آخر اس نے گناہگاروں کوہی بخشناہے۔اگرگنا ہ کرنے والے نہ ہوئے تو وہ بخشے گاکن کو ؟ یہ جواب غلط ہے یا صحیح اس کے متعلق بحث نہیں۔بہرحال یہ ایک جواب ہے جو انہوں نے سوچاہواہے۔لیکن ایک طبقہ ایسابھی ہے جوسمجھتاہے کہ یہ احکام پرانے زمانہ میں محض عربوں کی اصلاح کے لئے دیئے گئے تھے۔عرب لوگ بالکل وحشی تھے۔اوروہ گندے اور غلیظ رہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دے دیا کہ تم اپنے کپڑوں اوربدن کوصاف رکھاکرو۔اسی طرح ان میں کوئی تنظیم نہیں تھی۔وہ بالکل پراگندہ حالت میں تھے۔اسلام نے ان کو حکم دے دیاکہ وہ پانچ وقت مسجد میں اکٹھے ہو جایاکریں۔اس طرح گو بظاہرنماز کاحکم دیاگیا مگردراصل یہ غرض تھی کہ وہ خدا تعالیٰ کے ڈر کے مارے جب مسجد میں آئیں گے اورانہیں قوم اور ملک کے حالات بتائے جائیں گے۔توا ن میں سیاسی بیداری پیداہوجائے گی اوروہ دنیا پر غالب آنے کی کوشش کریں گے۔مجھے یاد ہے۔میں بچہ تھا کہ میں نے ایک اخبار میں ایک دفعہ اسی کے متعلق ایک مضمون پڑھا۔ایک صاحب جومسلمانوں کے مبلغ سمجھے جاتے تھے اورجاپان او رامریکہ میں تبلیغ کرکے آئے تھے انہوں نے واپس آنے پر علی گڑھ میں ایک لیکچردیا جواخبار میں شائع ہوا۔اورمیں نے بھی پڑھا اس لیکچر میں انہوں نے بیان کیا کہ یہ جو کہاجاتاہے کہ نماز بڑی ضروری چیز ہے اورپانچ وقت مسجد میں باجماعت اداہونی چاہیے دراصل ایساکہنے والے حقیقت پر کبھی غور نہیں کرتے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے۔پرانے زمانہ کے لحاظ سے اس کے احکام اور رنگ رکھتے تھے اوراس زمانہ کے لحاظ سے اس کے احکام اوررنگ رکھتے ہیں۔بیشک احکام وہی رہیں گے مگرحالات کے لحاظ سے ان کی ہیئت بدلتی چلی جائے گی۔عرب لوگ جاہل تھے و ہ ننگے پائو ں رہتے تھے۔کپڑے ان کے پاس بہت کم ہواکرتے تھے۔اس لئے ان کو سجدہ اور رکوع کاحکم دے دیاگیا۔مگر اب وہ زمانہ ہے کہ اگر سجدہ کیاجائے یارکوع کےلئے جھکاجائے تو پتلونوں