تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 402
آنکھوں میں محبت کی جھلک آجاتی ہے۔ایک ڈاکو اورقاتل انسان بھی ماں باپ سے محبت کرتاہے اوربسا اوقات وہ قاتل اور ڈاکو بنتاہی اس لئے ہے کہ کسی نے اس کے ماں باپ ،بہن بھائی یاکسی اوررشتہ دار پر ظلم کیاہوتاہے اوروہ اس کابدلہ لینے کے لئے ڈاکو بن جاتاہے۔اورمذہب بھی یہی کہتاہے کہ ماں باپ سے محبت کاسلوک کرو اوران کا احترام کرو۔پھر مذہب کہتاہے بیوی سے محبت کرو۔اوراس کااحترام کرو۔مذہب کہتاہے عورت اپنے خاوند سے محبت کرے اورا س کا احترام کرے۔لیکن اگر مذہب نہ بھی ہوتو بھی لو گ اپنی بیویوں سے محبت کریں گے۔اگر مذہب نہ بھی ہوتو بھی عورتیں اپنے خاوندوں سے محبت کریں گی اوران کاحترام کریں گی۔پھر مذہب کہتاہے جھوٹ نہ بولو۔اب اس کے لئے کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔جن قوموں میں کو ئی مذہب نہیں پایاجاتا مثلاً پرانے حبشی قبائل ہیں جو خدااوراس کے رسول اورکتاب پر ایمان نہیں رکھتے انہیں دیکھ لووہ بھی شریف انسان کی یہی تعریف کریں گے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا۔حالانکہ وہ کسی مذہب کے متبع نہیں۔ان کارسول اورکتاب پر ایمان نہیں ہوتا۔لیکن شرافت کے ساتھ سچ کاتعلق وہ بھی مانتے ہیں۔پھرچوری کے ساتھ بھی مذہب کاکوئی تعلق نہیں۔مذہب بے شک یہ کہتاہے کہ چوری نہ کرو۔لیکن جہاں مذہب نہیں وہاں بھی شرافت یہ کہتی ہے کہ چوری کرنا براہے۔پھر لڑائی جھگڑادنگافساد۔غیبت اور دوسرے سے بغض اور کینہ رکھنا ہے۔مذہب ان سے منع کرتاہے۔لیکن اگر مذہب نہ بھی ہوتوبھی ایک شریف انسان ان برائیوں سے اجتناب کرے گا۔پس یہ تمام چیزیں ایسی ہیں کہ جہاں مذہب نہیں وہاں بھی پائی جاتی ہیں۔اورجہاں مذہب ہے وہاں بھی یہ سب موجود ہیں۔اگر کوئی چیز ایسی ہے کہ جہاں مذہب ہے وہاںتووہ موجود ہے لیکن جہاںمذہب نہیں وہاں وہ موجود نہیں۔تووہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کاخیال ہے۔اگر مذہب نہیں توانسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کاخیال نہیں رکھتا۔وہ کہے گامجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کی کیا ضرورت ہے یاوہ سرے سے خدا تعالیٰ کاہی انکار کردے گا۔لیکن ایک مذہب کاپابند انسان خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کا محتاج ہوتاہے۔ہرمذہب کاماننے والاکہے گاکہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کی ضرورت ہے۔لیکن اس امتیازی شان کو کس حد تک اختیار کیا جاتا ہے۔کہنے کوتوہر مذہب والا یہی کہتاہے کہ مجھے خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کی ضرورت ہے لیکن کتنے لوگ ہیں جن میں تعلق باللہ پیداکرنے کااحساس ا س شدت سے پایا جاتا ہے جس شدت سے وہ پایاجاناچاہیے۔سومیں سے ننانوے نہیں۔ہزار میں سے نوسوننانوے نہیں بلکہ ایک لاکھ میں سے ننانوے ہزار نوسوننانوے اورشائداس سے بھی کم وہ لوگ نکلیں گے جن میں مذہب کاخیال توہے لیکن خدا تعالیٰ کی محبت نہیں اورصرف یہی نہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ سے محبت نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے محبت پیداکرنے کا خیال بھی ان میں