تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 403
نہیںپایاجاتا۔ایسی صورت میں کون خیال کرسکتاہے کہ انہوں نے سچے دل سے کسی مذہب کواختیارکیاہواہے۔تم اگر عرق گائو زبان کی بوتل پر روح کیوڑہ لکھ دوتوکیا وہ روح کیوڑہ بن جائے گا؟ پانی پر اگر روح گلاب لکھ لیاجائے تواس سے کیا بنتاہے جب اندر روح گلاب نہ ہو۔یہ تودھوکاہوگا۔دھوکہ بازعطاراسی طرح کرتے ہیں۔علاقہ میں وباء شروع ہوتی ہے مثلاً ملیریا شروع ہوتاہے اورحکیم لکھناشروع کردیتے ہیں کہ مریض کو عرق مکو اورعرق گائو زبان پلائو تو ایک دیانت دار عطار بعض دفعہ کہہ دے گا کہ میرے پاس عرق مکو اورعرق گائو زبان تیار نہیں۔لیکن بددیانت عطارکہے گا۔میرے پا س دونوں چیزیں موجود ہیں۔وہ پانی لے گابوتل میں بھر ے گااو رکہے گا۔یہ عرق مکو ہے یہ عرق کاسنی ہے۔یہ عرق گلاب ہے۔تم جو عرق بھی مانگو گے وہ اس کے پاس موجود ہوگا۔اسی طرح تم کوئی نام رکھ لو۔تم مٹی کانام سونارکھ لو تومٹی سونانہیں بنے گی۔تم دنیا داری کانام مذہب رکھ لیتے ہوتوتمہیں مذہب کوئی فائدہ نہیں دے گا۔مذہب اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں دیتا جب تک کہ تعلق باللہ پیدانہ ہو۔اوراگر تعلق باللہ کے بغیرکوئی شخص کسی مذہب کواختیار کرکے یہ سمجھتاہے کہ وہ محفوظ ہوگیاہے تووہ ایسا ہی نادان ہے جیسے مکڑی کے گھر کو گھر سمجھنے والا۔پھر فرمایا۔اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مِنْ شَیْءٍ۔اللہ تعالیٰ کوچھوڑ کر جن ہستیوں پر یہ لوگ انحصار رکھتے ہیں۔ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے یہ لوگ توفانی اورکمزور انسانوںکواپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔بلکہ بعض دفعہ پتھر کے بے جان بتوں کے آگے اپنے سرجھکادیتے ہیں اوربعض دفعہ مردوں کی قبروں پر کھڑے ہوکر ان سے دعائیں کرتے اورانہیں اپنی مدد کے لئے پکار تے ہیں۔مگراللہ تعالیٰ جانتاہے کہ ان ہستیوں کی کیاحقیقت ہے۔بڑے سے بڑازبردست بادشاہ بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے ایک مچھر کے پرجتنی حقیقت بھی نہیں رکھتا۔چلتے چلتے اگرکسی کاہارٹ فیل ہوجائے توخواہ دنیا کابڑے سے بڑابادشاہ بھی اس کادوست ہو وہ دنیا کی ساری دولت خرچ کرنے کے باوجود اسے زندہ نہیں کرسکتا۔کسی پر بجلی آگرے یاوہ دریامیں غرق ہوجائے یاآگ میں جل جائے یاہوائی جہاز کے حادثہ میں ہلاک ہوجائے یاریل اورموٹر کی ٹکر کے نتیجہ میںمرجائے توکون ہے جواسے بچاسکے۔دنیا کے ڈاکٹر امراض کے علاج میں بڑی بھاری مہارت رکھتے ہیں مگرجب خدا تعالیٰ کی طرف سے موت کاپیغام آجاتاہے توبڑے بڑے ڈاکٹر منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔اورانسانی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرجاتی ہے۔پھرایسی بے حقیقت پناہ گاہوں پر انحصاررکھنا اورخدا تعالیٰ کو چھو ڑکر دوسروں کی طرف اپنی مدد کے لئے ہاتھ پھیلاناکتنی بڑی نادانی ہے۔پھر وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ فرماکراس طرف اشارہ کیاکہ انسان کو کامیابی اسی صورت میں حاصل ہوسکتی ہے جب وہ ایک غالب ہستی سے تعلق رکھے جیسے کسی نے کہاہے ؎