تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 401
والا ہے۔اس شخص نے سمجھا کہ یہ شخص راستہ دکھانے والا ہے۔اوروہ خاموشی سے چلا گیا۔یہ سچ کاسچ تھا او ربات کا پتہ بھی نہ لگ سکا۔اسی طرح معلوم ہوتاہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام لباس وغیرہ تبدیل کرلیتے تھے اورجگہ بدل لیتے تھے اور پہچانے نہ جاتے تھے۔آخر پولیس نے یہ تجویز کی کہ مسیح ؑ کے حواریوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ ملایاجائے۔چنانچہ انہوں نے یہودااسکر یوطی کو تیس درہم دے کر اپنے ساتھ ملایا۔اس نے کہا کہ مجلس میں مَیں جس کے ہاتھ پربوسہ دو ںوہی مسیح ہوگا۔چنانچہ وہ مجلس میں آیا اور اس نے آتے ہی اے استاد کہہ کر حضرت مسیح علیہ السلام کے ہاتھ کو چوم لیا۔اس پر پولیس نے آپ کو گرفتار کرلیا۔اب وہ شخص بھی بظاہر مومن کہلاتاتھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں اپنے آپ کو شامل کرتاتھا۔مگراپنی بدبختی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گرفتاری کاموجب بن گیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کو پکڑوانے سے پہلے وہ آپ کے ساتھ کھاناکھارہاتھا کہ آ پ نے الہام کے ذریعہ خبر پاکر بتایاکہ جو شخص میرے پکڑ وانے کاموجب ہوگا اس کااورمیراہاتھ اس وقت پیالے میں اکٹھاپڑ رہاہے۔ا س وقت یہودااسکریوطی آپ کے ساتھ کھاناکھارہاتھا وہ سمجھ گیا کہ یہ میرے متعلق ہے اوراس نے کہا کہ اے استاد! یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ مسیح علیہ السلا م نے کہا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے جوپوری ہوکررہے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور اس شخص نے ساڑھے سات روپے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا۔ذلیل سے ذلیل چوروں کے سامنے بھی گورنمنٹ بعض دفعہ پانچ پانچ دس دس ہزار روپے پیش کرتی ہے کہ اپنے ساتھیوں کوپکڑوادو۔لیکن وہ نہیں پکڑواتے مگر ا س نے ساڑھے سات روپے لے کر اپنے رہبر کو پکڑوادیا۔تودرحقیقت صرف مذہب کالبادہ اوڑھ لینا اور مذہب کے نام پرخوش ہوجاناانسان کے کسی کام نہیں آسکتا۔جس طرح عنکبوت کاگھر بظاہر گھرہی کہلاتاہے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتاکہ اس میں گھر کی خصوصیات بھی موجود ہیں اسی طرح صرف سچے مذہب میں شامل ہونا انسان کی نجات کاباعث نہیں بن سکتا نجات کے لئے ضروری ہوتاہے کہ انسان غیراللہ سے کامل انقطاع کرکے خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے اوراسی سے اپناتعلق قائم رکھے۔اگروہ ایسا نہیں کرتا تووہ بیت العنکبوت میں اپناسرچھپاتاہے۔درحقیقت اگرسوچاجائے تومذہب جس پر دنیا کااکثر حصہ فریفتہ ہے وہ اپنے اندر ایک ہی خصوصیت رکھتاہے۔اوروہ خصوصیت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ او ربندہ کے درمیان تعلق پیدا کیاجائے۔دنیا میں کئی قسم کی نیکیاں پائی جاتی ہیں۔لیکن اگر مذہب نہ بھی ہوتوبھی لوگ وہ کام کرتے ہیں اوردوسروں سے کرواتے ہیں۔مثلاً ماں باپ سے محبت کرنا۔ایک دہریہ بھی اپنے ماں باپ سے محبت کرتاہے۔ایک فلسفی بھی اپنےماں باپ سے محبت رکھتاہے۔ایک حریص اورلالچی انسان جودوسروں کامال لو ٹ کراپنا گھر بھر ناچاہتاہے وہ بھی جب ماں باپ کے سامنے آتا ہے تواس کی