تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 400
پہچاناجاتاہے۔مگراس کایہ مفہوم نہیں کہ اگر درخت کو پھل نہ لگا ہو تو درخت پہچانانہیں جاسکتا۔معمولی زمیندار بھی چاہے وہ باغبان نہ ہو درختوں کو بغیر پھل کے پہچان لیتے ہیں۔کیونکہ در ختوں کی شاخیں او رپتے الگ الگ قسم کے ہوتے ہیں۔آم کاپتہ الگ قسم کاہوتاہے۔انار کاپتہ الگ قسم کاہوتاہے۔شہتوت کاپتہ الگ قسم کاہوتا ہے لیچی کاپتہ الگ قسم کاہوتاہے۔مالٹے کاپتہ الگ قسم کا ہوتاہے۔سیب کا پتہ الگ قسم کا ہوتاہے یہ علیحدہ بات ہے کہ ایک پنجاب کارہنے والا آد می افغانستان یاکشمیر کے درختوں کو نہ پہچان سکے لیکن عام درخت جواس کے علاقہ میں پائے جاتے ہیںان کو وہ پہچان لیتا ہے خواہ ان درختوں کو پھل نہ لگا ہواہو۔پس حضرت مسیح ناصریؑ کے اس قو ل کے یہ معنے نہیں کہ جب تک درخت پر پھل نہ لگے و ہ پہچانانہیں جاتا بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ درخت کی اصل قیمت اس وقت معلوم ہوتی ہے جب اسے پھل لگاہواہو۔چنانچہ دیکھ لو ہرآم کے درخت کو آم لگتے ہیں لیکن بعض آم ا س قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ کھانے کے کام نہیں آتے بلکہ لوگ ان کاآچار ڈال لیتے ہیں اور بعض ایسے ردی ہوتے ہیں کہ آچار کے کام بھی نہیں آتے۔اوربعض آم ایسے ہوتے ہیں جوسودودوسوروپے سینکڑہ بکتے ہیں۔اب نام تو سب کاآم ہی ہوتاہے۔لیکن بعض درختوں کا پھل بہت مہنگا بکتاہے اورباغبان ان کی خاص طور پر حفاظت کرتاہے اوربعض درختوں کے ردّی پھل کو دیکھ کر باغبان کاٹ ڈالتاہے اورکہتاہے کہ ان کی جگہ میں کوئی اورپودہ لگائوں گا۔اسی طرح مذہب بھی اپنے ساتھ بعض پھل رکھتاہے۔اگروہ پھل کسی شخص میں پائے جائیں تواس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ سچے مذہب کاپیروہے۔لیکن اگروہ پھل نہ پائے جائیں تومحض زبان سے کسی مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا اسے نجات نہیں دے سکتا۔خود حضرت مسیح ناصریؑ کاایک حواری ایساتھا جس نے تیس درہم یعنی ساڑھے سا ت روپے میں حضر ت مسیح علیہ السلام کو بیچ دیا۔بیچنے کالفظ اس لئے بولاجاتاہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو پولیس تلاش کرتی رہتی تھی لیکن آپ ان کے ہاتھ نہیں آتے تھے۔آپ کو پولیس کی آمد کاعلم ہوجاتاتھااورآپ وہاں سے روپو ش ہوجاتے تھے۔ایک شخص جو کہ کئی سال تک دھڑلّے سے اپنی تبلیغ کودنیا تک پہنچاتا رہا اور لوگوں کے سامنے تقریریں کر تارہااس کے متعلق ہم یہ تونہیں سمجھ سکتے کہ پولیس ا سے پہچان نہ سکتی تھی۔پولیس آپ کو پہچانتی توتھی۔لیکن معلوم ہوتاہے مسیح علیہ السلام ایسے طور پر رہتے تھے کہ لوگوں کو آپ کاعلم نہ ہوتا۔جیساکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کرتے ہوئے اپنے ار د گرد ایسے طور پر چادر لپیٹ لی کہ کو ئی آپ کو پہچان نہ سکے۔روایات میں آتاہے کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر ؓ سے پوچھا کہ یہ آپ کے ساتھ کون ہے توآپؓ نے فرمایا۔یہ میراہادی ہے۔ھادی کے دونوں معنے ہوسکتے ہیں۔یہ بھی کہ یہ میراآقاہے اور یہ بھی کہ یہ مجھے راستہ دکھانے