تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 399

جس طرح مکڑی اپنے جالے میں بیٹھ کر یہ سمجھتی ہے کہ وہ حوادث زمانہ سے محفوظ رہے گی۔قرآ ن کریم نے بار بار مسلمانو ں کو اس اہم نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے اوربا ربار کہا ہے کہ اِتَّقُوْااللّٰہَ اے مسلمانو! تم خدا کواپنی ڈھال بنائو۔یعنی اسے اپنے بچائو کاذریعہ سمجھو۔بے شک تم اسباب سے بھی کام لو۔کیونکہ اسباب سے کام لینا خود خدا تعالیٰ کے پیداکردہ سامانوں سے کام لینا ہے مگر کبھی یہ خیال نہ کرو کہ و ہ اسباب اور ذرائع ہی حقیقی چیز ہیں۔اصل مدد خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اوراگراس کی مدد شامل حال نہ ہوتوکوئی سامان فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔آخرسوچو کہ کیا عاد اور ثمود کے پاس کم سامان تھے۔کیاقارون اور فرعون اورہاما ن کم طاقتیں رکھتے تھے۔پھر کیا ان کی یہ طاقتیں انہیں خدائی عذاب سے بچاسکیں۔پس اسباب پرانحصار رکھنااور انہی کو اپنی نجات کاموجب سمجھنا بڑی نادانی ہے مومن کااصل مقام وہی ہے جو اِیَّاکَ نَعْبُدُوَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ میں بیان کیاگیا ہے۔یعنی عبادت بھی سچے دل سے خدا تعالیٰ کی ہی کی جائے اورمدد بھی اسی سے حاصل کی جائے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی احتیاج عبادت بھی ہے لیکن بندوں کی احتیاج ذلت ہے۔اگر کوئی شخص کامیابی کے اس ایک ہی دروازہ کو اپنے اوپر بند کرلیتا ہے تواس کی ہلاکت اس کے سر پر منڈلاناشروع کردیتی ہے۔اورآخراسے انتہائی حسرت کے ساتھ ناکامی کامنہ دیکھناپڑتا ہے۔پھر بیت العنکبوت کی مثال دے کر اللہ تعالیٰ نے ا س امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جس طرح گھر کہہ دینے سے عنکبوت کا گھر گھر کاکام نہیں دے سکتا۔اسی طرح محض مذہب کا لبادہ اوڑھ لینے اوراس کے نام کا لیبل اپنے اوپر چپکا لینے سے وہ مذہب انسان کی نجات کا موجب نہیں بن سکتا۔نجات کا موجب وہ صرف اسی صور ت میں بن سکتا ہے جب انسا ن کے اندر و ہ روح بھی پیداہوجائے جومذہب پیداکر ناچاہتاہے۔اگر یہ روح پیدا نہیں ہوتی تواس کامحض ایک نام اختیار کرکے تسلی پاجانااور عملی رنگ میں اللہ تعالیٰ کی بجائے غیر اللہ کی طرف جھکے رہنا ایسی ہی کم عقلی کی بات ہے۔جیسے عنکبوت کا اپنے گھر کو گھر سمجھ لینا۔حقیقت یہ ہے کہ گواس دنیا میں ہزاروں مذاہب پائے جاتے ہیں اورہرمذہب کاپیرو دوسرے مذاہب کے پیروئو ںسے شدید اختلاف رکھتاہے لیکن سینکڑوں اختلافات کے باوجود دنیا کے تما م مذاہب کے پیرو اس امر پر متفق ہیں کہ مذہب کی حقیقی غرض اللہ تعالیٰ سے تعلق پیداکرناہے۔اورجب مذہب کی اصل غر ض یہی ہے تو ایک دیانتدار انسان کافرض ہے کہ وہ ہروقت اپنے اعمال کاجائز ہ لیتارہے او ریہ دیکھتارہے کہ اس نے کہا ں تک ان پھلو ں کوحاصل کیا ہے جو سچے مذہب پر چلنے کے نتیجہ میں حاصل ہواکرتے ہیں۔حضر ت مسیح ناصر ی علیہ السلام نے اسی نکتہ کی طرف اشار ہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ درخت اپنے پھلو ںسے