تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 368
کردے۔ایک ہندوکوکیوں حق حاصل نہیں کہ و ہ جبراً دوسروںکو ہندوبنالے یاانہیں مارڈالے۔چین میں کنفیوشس مذہب کے پیروئو ںکو یہ کیوں حق نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کو اپنے مذہب میں شامل کرلیں۔فلپائن میں جہاں اب بھی پندر ہ بیس ہزار مسلمان ہے عیسائیوں کو کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ مسلمانوں کوجبراً عیسائیں بنالیں۔امریکہ کو کیوں حق حاصل نہیںکہ وہ جبراً ان مسلمانوںکو جو اس کے ملک میں رہتے ہیں عیسائی بنالے۔روس کوکیوں حق حاصل نہیں کہ و ہ جبراً سب کو عیسائی بنالے یا جبراً سب کو کمیونسٹ بنالے۔اگرمسلمان دوسروں کو جبراً اپنے عقیدہ پرلا سکتے ہیں توویساہی حق عقلاً دوسروں کو بھی حاصل ہے۔لیکن کیا اس حق کو جاری کرکے دنیا میں کبھی امن قائم رہ سکتاہے۔کیااس حق کوجاری کرکے تم اپنے بیٹے کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے یابیوی کو بھی کہہ سکتے ہو کہ یہ مسئلہ ٹھیک ہے کہ عیسائیوں کا حق ہے کہ وہ مسلمانوں کو زبردستی عیسائی بنالیں۔مسلمانوں کا حق ہے کہ وہ عیسائیوں کو زبردستی مسلمان بنالیں۔ایران والوں کاحق ہے کہ وہ سب حنفیوں کو زبردستی شعیہ بنالیں اورحنفیوں کاحق ہے کہ وہ سب کو زبردستی سنی بنالیں۔غرض یہ ایسی عقل کے خلاف بات ہے کہ کو ئی انسان اس کو ایک منٹ کے لئے بھی تسلیم نہیں کرسکتا۔گذشتہ انبیاء کی قوموں نے جب بھی خدائی ہدایت کوماننے سے انکار کیاتو خدا تعالیٰ نے انہیں مخاطب کر تے ہوئے یہی فرمایا کہ اَنُلْزِمُکُمُوْھَاوَاَنْتُمْ لَھَاکَارِھُوْنَ (ہود:۲۹)یعنی اگر تم خود ہدایت لینا پسند نہیں کرتے توہم جبراً تمہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔لیکن افسوس کہ موجو د ہ زمانہ میں مسلمانوں میںاس اصل کاانکار کرنے والے لوگ بھی موجود ہیں۔اگردنیا اس مسئلہ کوسمجھ جائے تویقیناً ظلم اور تعدّی مذہبی اور سیاسی امور میں بند ہوجائے۔نہ لوگ اپنے عقیدے لوگوں پر جبراً ٹھونسیں اور نہ اپنے سیاسی نظام دوسرے ملکوں میں جبراًجاری کرنے کی کوشش کریں۔اَوَ لَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ١ؕ اِنَّ کیاان کو معلوم نہیں کہ اللہ (تعالیٰ )پیدائش عالم کو کس طرح پہلی دفعہ شروع کرتاہے پھر اس کوبار بار ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ۰۰۲۰قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا لوٹاتاجاتاہے۔یہ کام اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔تُو کہہ ملک میں چاروں طرف پھرو۔پھر دیکھو کہ كَيْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ يُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ١ؕ اِنَّ اللہ(تعالیٰ)نے مخلوق کی پیدائش کس طرح شروع کی تھی پھر مرنے کے بعد ان کودوبارہ زندہ کرتاچلاگیا۔