تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 369

اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌۚ۰۰۲۱ اللہ(تعالیٰ )ہرایک چیز پر قادر ہے۔تفسیر۔ان آیات میں وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ کی دلیل پیش کی گئی ہے اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیاان کومعلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح پچھلے نبیوں کے ذریعہ سے ایک روحانی جماعت قائم کرتارہاہے۔پھر جب ان نبیوں کاروحانی اثر جاتارہااورپھر وہ کسی نئے نبی کے ذریعہ سے روحانی جماعتوں کوقائم کرتارہا۔تویہ بات اللہ تعالیٰ پر آسان ہے۔چنانچہ تم زمین میں پھر واوردیکھو کہ کیانبی کے بعد نبی نہیں آتارہا اورجماعت کے بعد جماعت نہیں قائم ہوتی رہی۔بعینہٖ اسی رنگ میں اب اللہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ پھرایک جماعت قائم کرے گااوروہ اس بات پر قادر ہے۔تمہاری مخالفانہ کوششیں اللہ تعالیٰ کے اس اراد ہ میں مزاحم نہیں ہوسکتیں۔يُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ سے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں آخرت کا ذکر کیاگیا ہے مگریہ در ست نہیں۔اس جگہ آخر ت کانہیں بلکہ اسی دنیاکا ذکر ہے اور چونکہ اس دنیا میں مردے زندہ نہیں ہوتے اس لئے پیدائش اول سے مراد قوموں کو تمکنت بخشنااورپیدائش ثانی سے مراد غالب قوموں کے زوال کے بعد پھر دوبارہ ان میں بیدار ی پیداکرنا ہے۔مگراس کے یہ معنے نہیں کہ اُخروی زندگی ہے ہی نہیں بلکہ ہمارایہ مطلب ہے کہ اس آیت میں اس دنیا میں قوموں کے اتا رچڑھائو کا ذکر ہے۔جیسا کہ سِیْرُوْافِیْ الْاَرْضِ کے الفاظ سے اوران الفاظ سے ظاہر ہے کہ دنیا پر غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلی دفعہ پیدائش کاکام شروع کیااور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی دینی شروع کی۔فَانْظُرُوْا كَيْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ میں اللہ تعالیٰ نے علمِ بَدئِ عالم کابھی ذکرکردیاہے جسے اصطلاحاً ایتھنالوجی کہتے ہیں۔یعنی اس بات کاپتہ لگاناکہ پیدائشِ عالم کس طرح ہوئی ہے۔فرماتا ہے تم زمین میں پھر کردیکھو پھرتمہیں پتہ لگے گاکہ پیدائش عالم کس طرح ہوئی تھی یعنی اگر تم نے تاریخ عالم کاصحیح پتہ لگاناہو۔تویہ پتہ تمہیں کسی ایک ملک سے نہیں لگ سکتا بلکہ مختلف ملکوں کے دیکھنے سے اس کا پتہ لگے گا۔کیونکہ مختلف اوقات میں مختلف تہذیبیں عروج پر رہی ہیں۔اگرتم اقوام عالم کی صحیح تاریخ معلوم کرناچاہتے ہو توتم ساری دنیا میں پھرو کیونکہ کسی صدی میں ہندوستان میں تہذیب پھیلی تھی توکسی صدی میں ایران میں تہذیب پھیلی۔کسی صدی میں روم میں تہذیب پھیلی تھی توکسی صدی میں عرب میں پھیلی۔اسی طرح کسی صدی میں شام میں تہذیب پھیلی تھی توکسی صدی میں مصر میں پھیلی۔غرض ایتھنالوجی کے علم کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں کی سیر کرو اوران میں مختلف اقوام کے جو آثار پائے جاتے ہیں ان