تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 367
فرمایاکہ تم سارادن بتوں کے آگے کیوں پڑے رہتے ہو۔تمہیں خدا تعالیٰ نے ہاتھ پائوں دیئے ہیں تم ان سے کام لو اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔یہ مضحکہ انگیز روش جوتم نے اختیار کررکھی ہے اس کاکچھ فائدہ نہیں۔وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ١ؕ وَ مَا عَلَى اوراگر تم میر ی بات کو جھوٹاقراردو تو(یہ کوئی نئی بات نہیں )تم سے پہلی قوموں نے بھی (اپنے رسولوں کو)جھٹلایاتھا۔الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ۰۰۱۹ اور رسول کاکام تو کھو ل کھو ل کرپہنچانا ہوتا ہے (زبردستی منوانانہیں ہوتا )۔تفسیر۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نو ح علیہ السلام کے درمیان اَور بھی بہت سے نبی گذرے ہیں اوران سب نبیوں کی امتوں کو اپنے اپنے زمانہ کے کفار سے تکلیفیں پہنچیں۔مگر انہوں نے ہرقسم کی مشکلات کامردانہ وار مقابلہ کیااور آخر خدا تعالیٰ نے انہیںکامیاب کردیا۔وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ میں اس طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ تلوار کی بجائے تبلیغ سے کام لینا ہی ایک دیرینہ اصول ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اسی اصول کو اختیار کیاتھا۔اوران کے زمانہ کے لوگوں کو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی ارشاد ہواتھا کہ ہمارے اس رسول کاکام صرف بات پہنچادینا ہے تلوار سے منوانانہیں اوریہی سارے قرآن کاخلاصہ ہے کہ دلیل کے ساتھ بات منوانامذہبی لوگوںکا کا م ہوتاہے جبرسے منوانا مذہبی لوگوں کا کام نہیں۔مگرافسوس ہے کہ اب تک دنیا اس مسئلہ کونہیں سمجھی بلکہ خودمسلمانوں میں بھی قتلِ مرتد کوجائز سمجھاجاتاہے۔حالانکہ کسی کا عقید ہ جھوٹ ہویاسچ عقیدہ رکھنے والا اسے بہرحال ویساہی سچا سمجھتاہے جیسے ایک مسلمان اپنے مذہب کو سچاسمجھتاہے۔عیسائیت جھوٹی سہی مگرسوال تویہ ہے کہ دنیا کااکثر عیسائی عیسائیت کو کیاسمجھتاہے وہ یقیناً اسے سچا سمجھتاہے۔ہندومذہب جھوٹاہے لیکن سوال تو یہ ہے کہ دنیا کااکثرہندواپنے مذہب کوکیاسمجھتاہے وہ یقیناً اسے سچاسمجھتاہے۔یہودی مذہب یقیناًاس وقت سچانہیں۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ یہودیوں کااکثر حصہ یہودیت کو کیاسمجھتاہے وہ یقیناً اسے سچاسمجھتاہے۔پس اگر اس بات پر کسی کو قتل کرناجائز ہے کہ میں سمجھتاہوں میرامذہب سچا ہے دوسرے کانہیں توپھر ایک عیسائی کویہ کیوں حق حاصل نہیں کہ وہ جس مسلمان کوچاہے قتل