تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 366
ہے۔مکان ہے۔بھینس ہے۔گھوڑاہے لیکن وہ دولت جو سب سے بڑی ہے یعنی ہواہے۔پانی ہے۔جواسے نہ ملے تومرجائے اس کا ذکر تک نہیں کرے گا۔بھینس اورگھوڑاضائع ہوجائے توانسان نہیں مرے گا۔کپڑوں کا ایک حصہ ضائع ہوجائے تووہ موسم کی برداشت کرلے گا۔لیکن اگر ہوانہ ملے تو چند منٹ میں ہی مرجائے اگرپانی نہ ملے تو وہ ایک دن یااس سے کچھ زائدعرصہ میں مرجائے گا۔غرض انسان سب سے بڑی دولت کو گنے گاہی نہیں حالانکہ اگریہ دولت اسے نہ ملے تو اس کازندہ رہنا ناممکن ہے۔وہ کبھی آنکھوں کانوں ناک اور زبان کانام نہیں لے گا۔حالانکہ وہ یہ نہیں جانتاکہ اگر وہ کہتاہے کہ میرے پاس گُڑ ہے تووہ گڑ کس کام کاجب زبان نہ ہوگی۔اگرزبان گڑ کونہ چکھتی توانسان کے نزدیک گڑ اور پھیکا برابر ہوتا یامثلاً وہ کہتاہے میری بیوی اور بچے خوبصورت ہیں لیکن اس کویہ خیال نہیں آئے گا کہ اگراس کی آنکھیں ہی نہ ہوں تواسے وہ خوبصورت کیسے معلوم ہوں۔غرض دولت کے جوحقیقی خزانے ہیں انسان ان کی قدر نہیں کرتا اور جودولتیں نسبتی ہیں اوربالواسطہ ملتی ہیں ان کے پیچھے ہروقت پڑارہتاہے۔مثلاً کپڑاہے۔اگرکپڑامیرے جسم کو نرم اور ملائم معلوم ہوتاہے تواس کی قیمت ہے لیکن اگر میراجسم کپڑے کی ملائمت محسوس نہیں کرتا تواس کی کوئی قیمت نہیں۔پھر اگر اس کی کوئی قیمت ہے تواس لئے کہ میرے ملنے والے دوستوںکو اچھا لگے۔اورانہیں لذت محسوس ہو۔اگرمیرے دوست کی آنکھیں ہی نہ ہوں اورمیری حس موجود نہ ہوتو چاہے وہ کپڑالاکھ روپے گزکاہو یاچند آنے کا مجھے اس کاکیافائدہ۔پھر زبان او رمعدہ ہیں۔یہ دونوں مل کر کھانے کی قیمت بناتے ہیں اگر کوئی دودھ پئے۔مکھن کھائے۔لسی پئیے یاپلائو اور زردہ کھائے۔لیکن اس کی زبان نہ ہوتویہ چیز یں کچھ بھی نہیں۔غرض ہمارے سب کپڑوں اورکھانوں کی قدر ان نعمتوں کی وجہ سے ہے جوخدا تعالیٰ نے عطا کی ہیں۔اگرتم اپنی آنکھیں نکال دو۔یاجسمانی حس ماردو توخوبصور ت اورردّی کپڑوں میں تمہیں کوئی فرق معلوم نہیں ہوگا۔چاہے کپڑالاکھ روپے گز ہو یا چارآنہ گز۔تمہارے لئے دونوں برابر ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے جونعمتیں دی ہیں وہ بہت زیادہ قیمتی ہیں مگرافسوس ہے کہ لوگ ان سے کام نہیں لیتے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کواسی طرف توجہ دلائی ہے کہ تم اپنی طاقتوں کو کیوں ضائع کرتے ہو۔تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر کرو اوران سے فائدہ اٹھائو اوراللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق رزق حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ان معنوں کے لحاظ سے یہاں عِنْدَاللّٰہِ کے الفاظ کااستعمال ویساہی ہے جیسے سورئہ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ بدکاری کاالزام لگانے کے بعد چار عینی گواہ نہ لائیں فَاُولٰٓئِکَ عِنْدَ اللّٰہِ ھُمُ الْکَاذِبُوْنَ (النور: ۱۴) وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق جھوٹے ہیں۔اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی