تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 365
تواس کی جسمانی طاقتیں ضائع ہوجاتی ہیں۔اورجوشخص ان کی قدرکرتاہے اس کی قوتیں بڑھ جاتی ہیں۔مثلاً اگر کوئی شخص محنت کرتاہے اوراپنے اسباق کویاد کرتا ہے توا س کاحافظہ تیز ہو جاتا ہے۔اورجومحنت نہیں کرتا اوراپنے اسباق کویاد نہیں کرتا اس کاحافظہ کمزورہو جاتا ہے۔پھر جولوگ بات کوسمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی استبناط کی قوت بڑھ جاتی ہے اورجولوگ بات کوسمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ان کی استنباط کی قوت جاتی رہتی ہے۔جولوگ اپنے اردگرد کے ماحول پرغورکرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں ان کی قوت فکر بڑھ جاتی ہے اور جنہیں اپنے ماحول پر غورکرنے کی عادت نہیں ہوتی ان کی قوت فکر جاتی رہتی ہے پھرجولوگ اپنے مختلف جذبات کو اپنی اپنی حد کے اندرقائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی عقل ترقی کرتی ہے اورجوایسانہیں کرتے۔ان کی عقل ماری جاتی ہے۔جولوگ خداداد سامانوں کو صحیح طور پر اورمناسب موقعہ پراستعمال کرنے کی سکیم بنالیتے ہیں ان کی قوتِ مدبّرہ ترقی کرتی ہے او رجواس قسم کی سکیم نہیں بناتے ان کی قوت مدبرہ جاتی رہتی ہے۔لیکن پیدائش کے وقت یہ سب قوتیں ہرانسان کو ملتی اور قریباً برابرملتی ہیں۔بعد میں ناقدری کی وجہ سے یہ قوتیں کم ہوجائیں تویہ اَوربات ہے۔یاماں باپ نے جس قسم کامعاملہ کیاہواس کے مطابق یہ قوتیں کم یازیاد ہ ہوجاتی ہیں۔مثلاً ایام طفولیت میں اگرماں باپ نے بچہ کی صحیح نگرانی نہیں کی۔یاماں نے حمل کے دوران میں پور ی احتیاط نہیں کی تواس سے بچہ کی قوتوں پر اثر پڑ سکتاہے لیکن اس امر کو مستثنٰی کرتے ہوئے اگرانسانوں کوبحیثیت مجموعی دیکھاجائے توکروڑوں کروڑ لوگ ایسے نکلیں گے جوان خداداد قوتوںسے مالامال ہوں گے۔لیکن ظاہری لحاظ سے یہ صورت نہیں۔اگرتمام انسانوں کی مالی حالت کااندازہ لگایاجائے توظاہری مالدار اس دنیا میں دس پندرہ لاکھ سے زیادہ نہ ہوںگے۔اس وقت دنیا کی آبادی اڑھائی ارب ہے اگر ظاہر ی دولت رکھنے والے پندر ہ لاکھ ہوں اوردنیا کی آبادی پندرہ کروڑ ہوتی توان کی نسبت کروڑ میں سے ایک لاکھ ہوتی۔لیکن دنیا کی آبادی اڑھائی ارب ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ قریباًسترہ سو(۱۷۰۰)میں سے ایک شخص ایساہے جس کے پاس ظاہری دولت ہے۔لیکن حافظہ ذہانت تدبّر اور فکر کی دولت ۱۷۰۰میں سے ۱۶۸۰کے پاس ہوگی صرف بیس اشخاص ایسے نکلیں گے جن کی یہ طاقتیں مائو ف ہوںگی۔باقی سب لوگوں کے پاس یہ دولت موجود ہوگی۔ہاں عدمِ استعمال کی وجہ سے ان پر زنگ لگ جائے تواَوربات ہے۔جیسے اگر کوئی چاقو بارش میں پھینک دیاجائے تواس پر زنگ لگ جائے گا۔لیکن اگر اسے پانی میں سے اٹھا کر صاف کیا جائے تووہ ویساہی صاف نکل آئے گاجیسے پہلے تھا۔لیکن سب سے زیادہ بے قدر ی اسی دولت کی کی جاتی ہے جواللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرانسان کو عطا کی گئی ہے اگرکسی شخص سے دریافت کیاجائے کہ تمہارے پاس کیاکیامال ہے تووہ کہے گا۔میرے پاس اتنی زمین