تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 364
یقین تھا کہ جو خداانہیں گھر پررزق دیتارہاہے وہ انہیں اس جنگل میں بھی رزق عطافرمائے گا۔پھر فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ فرماکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں سامان عطاکئے ہوئے ہیںان سے کام لوپھر تم دیکھو گے کہ کس طرح تمہاری تمام ضرورتیں پوری ہوتی چلی جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسان کچھ دولتیں کماتاہے اور کچھ دولتیں انسان کوخدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہوئی ہوتی ہیں۔جودولتیں انسان دنیا میں کماتاہے وہ کسی انسان کے پاس زیادہ ہوتی ہیں کسی کے پاس کم ہوتی ہیں اور کسی کے پاس ہوتی ہی نہیں۔مثلاً زمین بھی دولت ہے لیکن دنیا کے سب لوگ زمیندار نہیں۔کسی کے پاس زمین بہت زیادہ ہے کسی کے پاس بہت کم زمین ہے اور کسی کے پاس زمین ہے ہی نہیں۔تجارتیں ہیں ان کابھی یہی حال ہے۔کوئی پھیری کرکے گذار ہ کرتاہے اور کوئی بڑے بڑے کارخانوں کامالک ہے۔بینکنگ کابھی یہی حال ہے۔مالی لحاظ سے کسی کے پاس پانچ سات روپے ہوتے ہیں تو وہ اپنے آپ کومالدار سمجھتاہے اور کسی کے پاس کروڑوں روپے ہوتے ہیں اورپھر بھی وہ اورمال حاصل کرنے کی کوشش کرتارہتاہے امریکہ میں بعض لوگوں کی سالانہ آمد کروڑوں ڈالر ہے ان کوبھی مالدار کہتے ہیں۔اورغرباء کے علاقہ میں اگرکسی کے پاس سودوسوروپیہ آجاتاہے تولوگ کہتے ہیں یہ شخص بہت مالدارہے۔غرض وہ دولت جوانسان کماتاہے اورجو ظاہر میں نظر آتی ہے سب کو یکساں طور پر نہیں ملی۔کیونکہ اس کے لئے محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔اوراسی وجہ سے انسانوں میں بہت بڑا تفاوت پایا جاتا ہے۔یہ تفاوت کبھی قانون کے طور پر ہوتاہے جیسے جو شخص زیادہ محنت کرتاہے زیادہ کمالیتا ہے۔اور کبھی استثناء کے طورپر ہوتاہے۔جیسے ماں باپ مالدار ہوں توان کا بیٹابغیر کسی محنت کے مالدار بن جاتاہے۔لیکن ایک دوسری قسم کی دولت بھی انسان کو ملتی ہے جو حقیقتاً بہت زیاد ہ قیمتی ہوتی ہے۔مگرافسوس ہے کہ انسان اس کی قدر نہیں کرتے۔حالانکہ وہی دولت اصل دولت ہے۔اور پھر وہ ایسی دولت ہے جو تمام انسانوں کو یکساں طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی ہےاور وہ دولت ہےحافظہ کی۔فکر کی۔ذہانت کی۔عقل کی۔تدبّر کی۔یہ دولت ہرایک انسان کوملی ہے سوائے پاگل اور فاترالعقل کے اوریہ چیز بطور استثناء کے ہے و رنہ جو انسان بھی اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے۔اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خزانہ دے کر بھیجاجاتاہے۔اسے پیدائش کے ساتھ ہی حافظہ اورذہانت او رفکر اورتدبّر کی قوتیں عطا کی جاتی ہیں۔اگربعد میں وہ ان کی ناقدری کرتاہے تویہ قوتیں کلّی طور پر یاجزوی طور پرضائع ہوجاتی ہیں۔مثلاً اگروہ آنکھوںکواستعمال نہیں کرتا تووہ اندھاہو جاتا ہے۔پائوں سے نہیں چلتاتو پائوں شل ہوجاتے ہیں۔ہاتھ سے کام نہیں لیتا تو ہاتھ شل ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اگر وہ جسم کے دوسرے اعضاء کو استعمال نہیں کرتا