تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 343
سے اترآتاہے اوروہ اسی طرح ان کی تائید کرتاہے جس طرح پہلے انبیاء کی جماعتوں کی اس نے تائید کی۔مگرہر چیزکاایک وقت مقرر ہے۔ابتلائوں کابھی ایک دور ہوتاہے اورکامیابیوں اور فتوحات کا بھی ایک دورہوتاہے اورمومن کامل وہی ہوتاہے جو مصائب اورآفات میں اللہ تعالیٰ کی مدد پربھروسہ رکھتاہے۔جب اس کایقین اپنے کمال کو پہنچ جاتاہے تو اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ کااسے مژدہ سنایاجاتاہے اوراللہ تعالیٰ اس کے دشمن کو تباہ کردیتاہے۔اسی کی طرف آیت کے آخری حصہ میں یہ کہہ کراشارہ فرمایاکہ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔اللہ تعالیٰ مومنوں کی دعائوں کوسننے والا اوران کے حالات کو جاننے والا ہے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ان کی دعائوں کوقبول نہ کرے اوردشمن کے ظالمانہ رویہ کوروکتے ہوئے اسے سزانہ دے۔ایک مشہو رتاریخی واقعہ ہے کہ روس کا بادشاہ پیٹر ایک دفعہ کسی ضروری امر پرغور کرنے کے لئے اپنے بالاخانہ پر بیٹھ گیا۔اوراس نے حکم دے دیاکہ کسی شخص کو اند رآنے کی اجازت نہ دی جائے۔پرانے زمانہ میں دروازے نہیں ہوتے تھے۔صرف پردے لٹکالئے جاتے تھے۔اور عربی کتابوں سے پتہ لگتاہے کہ مسلمانوں کے مکانوں میں بھی دروازے نہیں ہوتے تھے۔اسی لئے حکم تھا کہ جب آئو تواجازت لے کر آئو۔بہرحال اس نے ڈیوڑھی پر ٹالسٹائے کو جواس کاچپڑاسی تھا۔بٹھادیا او راسے کہہ دیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دینا۔میں ایک ضروری امر کے متعلق غور کررہاہوں۔اتفاقاً کوئی شہزادہ آگیا۔اس نے بادشاہ کے پاس کسی کام کے لئے جاناچاہا۔روس کے شاہی قانون کے مطابق شہزادہ کوکوئی شخص روک نہیں سکتا۔شہزادوں کویہ اجازت تھی کہ وہ بادشاہ کے پاس جب چاہیں چلے جائیں۔انہیں کسی اجازت کی ضرورت نہیں۔پھر یہ بھی روسی قانون تھاکہ کوئی غیر فوجی آدمی کسی فوجی کو نہیں مار سکتا۔کسی بڑے افسر کوچھوٹاافسر نہیں مارسکتا۔اور کسی شہزادہ کو کوئی غیرشہزادہ نہیں مارسکتا۔یاکسی نواب کوکوئی غیر نواب نہیں مار سکتا۔پس چونکہ قانون اجازت دیتاتھا کہ شہزادے بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس چلے جایاکریں۔اس لئے شہزادے نے اند رداخل ہوناچاہامگرجونہی وہ اند رداخل ہونے لگا۔ٹالسٹائے نے آگے بڑھ کر کہا۔حضور شہزادہ صاحب بادشاہ کاحکم ہے کہ کسی کو اندر نہ آنے دیاجائے۔اس نے کہا ٹھیک ہے مگر تمہیں پتہ ہے میں شہزادہ ہوں۔اورشہزادوں کے متعلق یہ قانون ہے کہ وہ بغیر کسی روک کے بادشاہ کے پاس جاسکتے ہیں۔اس نے کہا پتہ ہے۔اس پر شہزادے کوغصہ آیا اوراس نے اسے دوچار کوڑے لگائے اور کہا باوجود اس قانون کے معلوم ہونے کے تم یہ جرأت کرتے ہوکہ مجھے اندر داخل نہیں ہونے دیتے۔اس نے مار کھالی اور شہزادے نے بھی دوچار ہنٹر مارنے کے بعد سمجھ لیا کہ اسے اب سبق آگیا ہوگا۔چنانچہ وہ پھر اندرداخل ہونے کے لئے آگے بڑھا۔مگرٹالسٹائے نے پھر اسے روک لیااورکہا حضور بادشا ہ