تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 342

مَنْ كَانَ يَرْجُوْا لِقَآءَ اللّٰهِ فَاِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ لَاٰتٍ١ؕ وَ هُوَ جوشخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتاہے (اسے معلو م ہوناچاہیے کہ) اللہ(تعالیٰ) کامقررکردہ وقت ضرور آنے السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۶ والا ہے۔اوروہ بہت سننے والا (او ر)بہت جاننے والا ہے۔تفسیر۔فرمایا جو کوئی اللہ تعالیٰ کی ملاقات کی امید رکھتاہے و ہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کاوعدئہ ملاقات بالکل سچا ہے اور پوراہوکررہے گا اور خدا تعالیٰ بہت دعائیں سننے والا اور جاننے والا ہے۔چونکہ اوپر کی آیات میں ان ابتلائوں کا ذکر ہے جو انبیاء کی جماعتوں پر آتے ہیں اس لئے یہاں لِقائے الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کی تائیداوراس کی نصرت کانزول ہے اورمومنوں کو ا س طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ دشمنوں کی شرارتوں کودیکھ کر تمہارے دلوں میں مایوسی نہیں آنی چاہیے۔اور تمہیں کبھی یہ تصور بھی نہیں کرناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اکیلاچھوڑ دے گا اوردشمن تمہیں تباہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔وہ ابتلائوں کے ذریعہ صرف تمہاراامتحان لیناچاہتاہے ورنہ وہ تمہارے ساتھ ہے اوراس کے فرشتے تمہاری تائید میں کام کررہے ہیں۔پس دشمن خواہ تمہیں کس قدر ستائے اور تم پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کرے تمہیں اس بات پر کامل یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جوتم سے ترقی کے وعدے کئے ہوئے ہیں وہ پورے ہوکررہیں گے اوروہ تمہاری مدد کے لئے دوڑتاچلاآئے گا۔اگرتم ابتلائوں میں ثابت قدمی دکھائو گے اورخدا تعالیٰ پر کبھی بدظنی نہیں کروگے بلکہ امید رکھو گے کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اترے گا اور تمہارے دشمنوں کی گردنیں مروڑ دے گاتوتمہاراخداتم سے ایسا ہی سلوک کرے گا۔اور وہ تمہارے لئے ایسی غیرت دکھائے گا جس کی مثال اَور کہیں نظر نہیں آئے گی۔اس زمانہ میں مسلمانوں کے تنزل کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوئی کہ ان کاایک زند ہ خدا پرایمان نہ رہا۔اورمعجزات اورخوارق کے متعلق انہوں نے یہ خیال کرلیا کہ یہ صرف پہلے زمانہ کے لوگوں کے لئے دکھائے جاتے تھے اب خدانعوذ باللہ ان نشانات کے دکھانے کی طاقت نہیں رکھتا۔اس کانتیجہ یہ ہواکہ ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کاکوئی ولولہ نہ رہا اور وہ مایوسی کا شکار ہوگئے۔اسلام اس نظریہ کو غلط قرار دیتاہے اورفرماتا ہے کہ جولوگ اپنے محبوب کی ملاقات یعنی اس کی نصرت اورتائید پر کامل یقین رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کے لئے آسمان